ملک بھر میں شدید سردی برقرار ،مری میں مسلسل 30 گھنٹے برفباری ،سندھ میں اسکولز 4 فروری تک صبح 9 بچے کھلیں گے
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد/کوئٹہ/کراچی /تیراہ /چناری/مانسہرہ ( نمائندہ جسارت+مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے بیشتر حصوں میں سردی نے کئی سالوں کے ریکارڈ توڑ دیے برف باری اور بارش برسانے والا نیا طاقتور سسٹم آج داخل ہوگا۔پاکستان بھر میں سردی کی شدید ترین لہر جاری ہے اور کئی علاقوں میں جما دینے والی سردی نے معمولات زندگی درہم برہم کر دیے۔ بالائی علاقوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی کئی درجے نیچے گر چکا ہے۔دوسری جانب محکمہ موسمیات نے مغربی ہواؤں کا ایک اور سلسلہ آج ملک میں داخل ہونے کی پیشگوئی کی ہے، جس سے آج رات سے بارشوں اور برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہوگا۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے سسٹم کے تحت بلوچستان، گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبر پختونخوا میں بارش اور برف باری متوقع ہے۔مری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بھی بارش اوربرف باری ہوسکتی ہے۔ سندھ کے کئی علاقوں میں بھی بارش کا امکان ہے۔بلوچستان میں خون جماتی سردی نے شہریوں کا نظامِ زندگی مفلوج کردیا۔ کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 اور قلات میں منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ سبی میں کم سے کم درجہ حرارت 5،گوادرمیں 6 اورتربت میں 9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ادھر کوئٹہ،قلات اور زیارت میں سڑکوں پرکھڑاپانی جم گیا،گھروں کی ٹینکیوں اورلائنوں میں بھی پانی جم گیا۔ سخت سردی میں زیارت،قلات میں گیس پریشر میں کمی کامسئلہ برقرار ہے اور صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری جانب کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 8.
ہٹیاں بالا میں ایک شخص شدید برفباری کے دوران کندھے پر آٹے کا تھیلالے جارہاہے، چھوٹی تصاویر میں ٹریفک اہلکار اور مقامی افراد نتھیاگلی میں بند ہوجانے والی گاڑی کو دھکا لگارہے ہیں،جہل میں بھاری مشینری کے ذریعے لیپہ روڈ سے برف ہٹائی جارہی ہے،ایبٹ آباد میں ریسکیو اہلکار برف میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے کی کوشش کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا علاقوں میں باری کے
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز