پاکستان: بلدیاتی ادارے صرف 11فیصد گھرانوں کاکچرا اٹھاتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد( نمائندہ جسارت) پاکستان میں بلدیاتی ادارے صرف 11فیصد گھرانوں کاکچرا اٹھاتے ہیں۔یہ بات فافن کی ملک میں صفائی سہولیات سے متعلق سروے رپورٹ برائے 2024-25 میں کہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2018-19میں کچرا ا ٹھانے کی شرح 20 فیصد تھی مزیدکم ہوکر11فیصد رہ گئی،مقامی حکومتوں کی عدم موجودگی سے صفائی کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہوئے،آئین کا آرٹیکل 9 ای شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول کا حق دیتا ہے۔ سروے کے مطابق شہروں میں معیاری صفائی کیلیے 75 فیصدکچراجمع کیاجانا ضروری ہے، سندھ میونسپل کچرا اٹھانے میں سرفہرست مگرشرح 28 سے کم ہو کر 16 فیصدہوگئی، پنجاب میونسپل کی جانب سے کچرا اٹھا نے کی سہولت صرف 12 فیصد گھرانوں تک محدود ہے۔فافن کے مطابق گزشتہ سروے میں پنجاب میونسپل میں 20 فیصدگھرانوں کوسہولت حاصل تھی، خیبرپختونخوا میونسپل میں صرف 6 فیصد گھرانوں کو بلدیاتی کچرا اٹھانے کی سہولت ہے،بلوچستان میونسپل میں صورتحال تشویشناک،صرف 1 فیصد گھرانوں کا کچرا بلدیاتی اداریاٹھاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصد گھرانوں
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔