پاکستان اور بنگلادیش کا مختلف شعبوں میں باہمی اشتراک مضبوط بنانے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260126-08-24
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) پاکستان اور بنگلادیش نے مختلف شعبوں میں باہمی اشتراک مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور بنگلادیشی مشیر برائے خارجہ امور توحید حسین کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعلقات، تجارت اور اقتصادی تعاون کا جائزہ لیا اور موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال کیامشترکہ مفادات کے فروغ، علاقائی امن و خوش حالی کے لیے مسلسل رابطے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا گیا۔دوسری جانب وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی قطر کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر محمد بن عبدالعزیز الخلیفی سے بھی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا اور علاقائی اور عالمی صورتِ حال پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔