پشاور میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ فیصلہ پر قوم کو اعتماد میں لیا گیا نہ ہی معاملہ وفاقی کابینہ میں زیرِ غور آیا، پچیس کروڑ عوام بھیڑ بکریاں نہیں کہ حکمران جو فیصلہ کریں قوم من و عن تسلیم کرلے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کا ٹرمپ کے نام نہاد غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں، فیصلہ پر قوم کو اعتماد میں لیا گیا نہ ہی معاملہ وفاقی کابینہ میں زیرِ غور آیا، پچیس کروڑ عوام بھیڑ بکریاں نہیں کہ حکمران جو فیصلہ کریں قوم من و عن تسلیم کرلے۔ مرکز الاسلامی پشاور میں جمعیت طلبہ عربیہ کے مرکزی سالانہ تین روزہ اجتماع ارکان و امیدواران سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے ایک دفعہ پھر زور دیا کہ اسلام آباد اور کابل مسائل کا حل مذاکرات سے نکالیں، خیبر پختوانخوا اور ضم شدہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں، افغانستان کی سرزمین کسی صورت بھی پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ خطہ میں امن کی کنجی پاک افغان تعلقات کی بحالی میں ہے۔ امیر جماعت اسلامی کے پی وسطی عبدالواسع، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری، سابق ایم این اے عبدالاکبر چترالی، صوبائی نائب امراء مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل، ڈاکٹر ہدایت اللہ، جمعیت طلبہ عربیہ کے صوبائی منتظم مولانا نعمان مسرور سمیت دیگر ذمہ داران بھی اس موقع پر موجود تھے۔

امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ حکمران بتائیں کس کی مشاورت سے غزہ بورڈ میں شمولیت کا اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے؟ فارم سنتالیس ہی کی پارلیمنٹ سہی، اس میں تو اس اقدام پر بحث ہونی چاہیے تھی۔ مشرف کی پالیسیوں کا خمیازہ پاکستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے، امریکہ کی جنگ میں شمولیت سے ہماری مغربی سرحد غیر محفوظ ہوگئی، قوم کو مُکے دکھانے والے امریکہ کے ایک فون پر ڈھیر ہوگئے، ملک میں دہشت گردی پروان چڑھی، امریکی فوجی اڈے قائم ہوئے، پاکستان میں سیکیورٹی اہلکاروں اور معصوم شہریوں کی ان گنت شہادتیں ہوئیں، قومی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، مشرف کے بعد آنے والے حکمرانوں نے ملبہ سابقہ حکومت پر ڈال دیا، اب پھر ٹرمپ کی چاپلوسی ہورہی ہے، وہی ٹرمپ جو علی الاعلان حماس کو غیر مسلح کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، فلسطینیوں کو اپنے دفاع سے بھی محروم کیا جارہا ہے، حکمران ہوش کے ناخن لیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے پاکستان کسی عالمی طاقت سے ٹکر لے لیکن قومی خود مختاری اور سالمیت کو گروی بھی نہیں رکھا جاسکتا، پاکستان ایٹمی طاقت ہے، امریکہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ حکمران قبائلی عمائدین، علمائے اکرام، تاجروں اور دیگر اثرورسوخ رکھنے والے افراد کو اعتماد میں لے کر افغانستان سے ہر صورت مذاکرات کا راستہ نکالیں، افغان عوام کو بھی جان لینا چاہیے کہ ماضی کے اقدامات کی ذمہ دار پاکستانی قوم نہیں ہے، پاکستانیوں نے سالہا سال افغانوں کی میزبانی کی ہے، دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ ملک کی داخلی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مسلط حکمران عوام کو حقوق دینے کو تیار نہیں، پونے تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں، کے پی سمیت تمام صوبوں میں لوگوں کو علاج کے لیے دھکے کھانے پڑتے ہیں، دعوؤں کے باوجود معیشت تنزلی کا شکار اور بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گُل پلازہ آتشزدگی واقعہ سے سندھ پر سترہ برس سے قابض پیپلز پارٹی کی کارکردگی سامنے آگئی۔ شکست کے باوجود کراچی میں قبضہ میئر لگا دیا گیا ، پی پی کے اس میئر کو ن لیگ اور جے یو آئی کی مدد بھی حاصل ہے، مقتدرہ نے قبضہ میئر کو مکمل تعاون فراہم کیا، لوٹ مار کرنے والے حکمران مقتدرہ کی مرضی کے بغیر مسلط نہیں ہوسکتے۔ یکم فروری کو کراچی کے مسائل اور مسلط حکمرانوں کے خلاف ملین مارچ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پورا نظام ہی فرسودہ ہے، گلے سڑے نظام سے جان چھڑائے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ علما اکرام اور مدارس کے طلبا امت کو متحد کریں ، عالم با عمل بنیں اور جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر نظام بدلنے کی جدوجہد کا حصہ بنیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی میں شمولیت کہ حکمران نے کہا کہ

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل