کراچی میں سردی کی حالیہ لہر کب تک برقرار رہے گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
کراچی:
کراچی میں بلوچستان کی یخ بستہ ہواؤں کے باعث سردی کی شدت برقرار ہے جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مطلع جزوی ابر آلود، موسم سرد اور خُشک رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج کم سے کم درجہ حرارت 11.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جبکہ کل کم سے کم درجہ حرارت 9 سے 11 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔
گزشتہ روز زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 21.
مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ آج ملک میں داخل ہوگا، کراچی میں بارش کا کتنا امکان؟
کراچی میں یخ بستہ ہواؤں سے سردی کی شدت برقرار، کم سے کم درجہ حرارت کیا رہا؟
کراچی میں شدید سردی کی وجہ سے ایک شہری جاں بحق
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں سردی کی حالیہ لہر جنوری کے اختتام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
شہر میں آج شمال مشرقی سمت سے 20 تا 40 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سرد و خُشک ہوائیں متوقع ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ہوا میں نمی کا تناسب 20 سے 50 فیصد رہنے کا امکان ہے، آج صبح حدِ نگاہ 4 کلومیٹر اور نمی کا تناسب 46 فیصد ریکارڈ ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہنے کا امکان ہے ڈگری سینٹی گریڈ محکمہ موسمیات کراچی میں سردی کی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔