سندھ بلڈنگ، گلستان جوہر میں غیر قانونی عمارتوں کا دھندہ، اورنگزیب ملوث
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
مافیا کے ساتھ ملی بھگت سے بے قاعدہ تعمیرات ،ہنگامی راستوں کی غیر موجودگی،شہری خوف زدہ
بلاک 3Aمیں پلاٹ نمبر ،SB10، SD5/2 پر عمارتیں تعمیر،گل پلازہ جیسے حادثات کا خطرہ
گلستان جوہر، خاص طور پر بلاک 3A کے مرکزی علاقوں میں، منظور شدہ نقشہ جات اور تعمیراتی ضوابط کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کئی منزلہ عمارتیں تیزی سے تعمیر کی جا رہی ہیں۔ پلاٹ نمبر SB10 , SD5/2 پر بلند عمارتوں کی تعمیر جاری ہے ۔یہ تعمیرات نہ صرف اوپن اسپیس اور پارکنگ جیسی سہولیات سے محروم ہیں، بلکہ ان میں سب سے خطرناک بات ہنگامی صورت حال میں فرار کے محفوظ راستوں کا مکمل فقدان ہے ۔ شہری منصوبہ بندی کے ماہرین اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ خلاف ورزیاں کسی بھی آتشزدگی یا دیگر ہنگامی حالات کے دوران جانی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں، اور حالیہ گل پلازہ سانحہ اس کی واضح مثال ہے ۔ ایک مقامی رہائشی کے بقول، "ہم روزانہ اپنی آنکھوں کے سامنے موت کی بلند ہوتی دیواریں دیکھ رہے ہیں”۔صورتحال کی سنگینی اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب خان پر اس سب کے لیے براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ ان غیر قانونی تعمیرات کو جاری رکھنے کے لیے انتظامیہ کی سرپرستی حاصل ہے ۔ ایک مقامی ٹھیکیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شکایت کرنے پر بس نوٹس دے کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے ۔ اورنگزیب خان کا یہ طرز عمل نیا نہیں۔ ان کی ناظم آباد میں پچھلی تعیناتی کے دوران بھی وہ اسی قسم کے تعمیراتی اسکینڈلز میں ملوث رہے ہیں، مگر ان کے خلاف کبھی سنجیدہ کارروائی نہیں ہوئی۔اس مسئلے کے مختلف پہلو ہیں۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اس کی اپنی نگرانی میں یہ خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ اعلیٰ حکام فوری طور پر اورنگزیب خان کے خلاف تادیبی کارروائی کریں اور تمام مشکوک سرگرمیوں کی شفاف تحقیقات کریں۔کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے ) نے دیگر علاقوں میں سرکاری زمینوں پر قبضہ اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کئے ہیں۔ تاہم، پرائیویٹ پلاٹوں پر بلڈنگ قوانین کی ان خلاف ورزیوں کا محاذ الگ ہے ۔یہ علاقہ صرف تعمیراتی مافیا ہی نہیں، بلکہ قبضہ مافیا کی کارروائیوں سے بھی متاثر رہا ہے ، جہاں پولیس کی سرپرستی کے بھی الزامات لگتے رہے ہیں۔یہ صورتحال محض ایک علاقے تک محدود نہیں، بلکہ پورے شہر میں انسانی جانوں سے کھیلنے والے ایک بڑے اداراتی-مافیائی گٹھ جوڑ کی عکاس ہے ۔ شہریوں کی نظر اب سندھ حکومت پر ہے کہ وہ ان سنگین الزامات پر کتنی سنجیدگی سے فوری اور عملی اقدامات کرتی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک