پی ایس ایل کا نیا سیزن: پلیئرز آکشن سے متعلق تفصیلات سامنے آ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کے لیے کھلاڑیوں کی نیلامی کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے، جس کے بعد فرنچائزز اور شائقین کرکٹ میں جوش و خروش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پی ایس ایل 11 کے لیے پلیئرز آکشن 11 فروری کو منعقد کی جائے گی، جو اس سیزن کے آغاز سے قبل سب سے اہم مرحلہ تصور کی جا رہی ہے۔ اس بار نیلامی پاکستانی روپے میں ہوگی، جسے مقامی کرکٹ اور مالی نظام کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیلامی میں کھلاڑیوں کی کم از کم قیمت 60 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے جب کہ کسی بھی کھلاڑی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 4 کروڑ 20 لاکھ روپے تک رکھی گئی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد فرنچائزز کو مالی توازن کے ساتھ مضبوط اسکواڈ تشکیل دینے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
ٹیم اسکواڈ میں کم از کم 16 اور زیادہ سے زیادہ 20 کھلاڑی شامل کیے جا سکیں گے، جن میں غیر ملکی کھلاڑیوں کی تعداد 5 سے 7 تک رکھی گئی ہے۔ مزید یہ کہ ہر ٹیم کی پلینگ الیون میں 3 یا 4 غیر ملکی کھلاڑی شامل ہو سکیں گے۔
پی ایس ایل کے نئے ایڈیشن سے قبل کھلاڑیوں کی ممکنہ نئی کیٹیگریز بھی سامنے آ چکی ہیں، جنہوں نے نیلامی کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد یونائیٹڈ کے شاداب خان، عماد وسیم اور نسیم شاہ بدستور پلاٹینم کیٹیگری میں برقرار رکھے گئے ہیں جب کہ صاحبزادہ فرحان کو گولڈ کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ سلمان علی آغا اور محمد نواز کو ڈائمنڈ سے ترقی دے کر پلاٹینم کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے، اعظم خان ڈائمنڈ سے گولڈ کیٹیگری میں آ گئے ہیں۔
کراچی کنگز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حسن علی کو ڈائمنڈ سے پلاٹینم میں شامل کیا گیا ہے جب کہ عباس آفریدی پلاٹینم سے ڈائمنڈ کیٹیگری میں منتقل ہو گئے ہیں۔ خوشدل شاہ اور عامر جمال ڈائمنڈ سے گولڈ میں آ گئے ہیں۔ عرفات منہاس کو گولڈ سے سلور میں رکھا گیا ہے۔ قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود بدستور ڈائمنڈ کیٹیگری میں برقرار ہیں۔
لاہور قلندرز کے شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان اور حارث رؤف پلاٹینم کیٹیگری میں اپنی جگہ قائم رکھے ہوئے ہیں جب کہ سلمان مرزا کو گولڈ سے ڈائمنڈ اور محمد نعیم کو ایمرجنگ سے سلور کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے۔ پشاور زلمی کے بابر اعظم اور صائم ایوب بھی پلاٹینم میں برقرار ہیں، تاہم محمد حارث اور محمد علی ڈائمنڈ سے گولڈ میں آ گئے ہیں۔
ملتان سلطانز کے کپتان محمد رضوان پلاٹینم میں موجود ہیں جب کہ اسامہ میر اور افتخار احمد کو پلاٹینم سے ڈائمنڈ میں منتقل کیا گیا ہے۔ محمد حسنین ڈائمنڈ سے گولڈ میں آ گئے ہیں۔ عاکف جاوید سلور سے گولڈ میں شامل کیے گئے ہیں۔
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے فہیم اشرف اور محمد عامر بدستور پلاٹینم میں ہیں جب کہ ابرار احمد ڈائمنڈ سے پلاٹینم میں ترقی پا گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈائمنڈ سے گولڈ میں آ گئے ہیں کیٹیگری میں پلاٹینم میں کھلاڑیوں کی سے گولڈ میں کیا گیا ہے ہیں جب کہ اور محمد گئی ہے
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار