Jasarat News:
2026-07-24@03:11:56 GMT

پیٹ میں جمی چربی فائدہ مند کیسے؟ تحقیق

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

پیٹ میں جمی چربی فائدہ مند کیسے؟ تحقیق

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیٹ میں جمی کچھ اقسام کی چربی انفیکشنز اور سوزش سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

یہ تحقیق اس عمومی تاثر کے برعکس ہے جس میں پیٹ کی چربی کو مکمل طور پر صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا رہا ہے۔

عام طور پر پیٹ اور اندرونی اعضا کے گرد موجود چربی، جسے وسرل فیٹ کہا جاتا ہے، کو ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کے امراض، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور کینسر کی بعض اقسام سے جوڑا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے، تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تصویر کا ایک اور رخ بھی موجود ہے۔

سوئیڈن کے معروف تحقیقی ادارے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کے محققین کے مطابق وسرل فیٹ کی تمام اقسام یکساں نہیں ہوتیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پیٹ کی چربی کئی مختلف اور جداگانہ حصوں پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں سے بعض جسم کے مدافعتی نظام کو فعال کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

تحقیق کے مرکزی مصنف جیاوے ژونگ کا کہنا ہے کہ چربی کا ٹشو محض توانائی ذخیرہ کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ایک فعال عضو کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ ان کے مطابق چربی کے خلیے ایسے کیمیائی سگنلز خارج کرتے ہیں جو جسم کے مدافعتی ردِعمل، سوزش اور انفیکشن کے خلاف دفاعی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔

محققین کے مطابق چربی کی کچھ مخصوص اقسام انفیکشن کے دوران مدافعتی خلیات کو متحرک کرتی ہیں اور جسم کو بیماریوں سے لڑنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ اس دریافت سے مستقبل میں موٹاپے، سوزش اور مدافعتی امراض کے علاج کے لیے نئی راہیں کھلنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیٹ کی زیادہ چربی اب بھی صحت کے لیے خطرناک سمجھی جاتی ہے، تاہم اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ چربی کو مکمل طور پر نقصان دہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ اس کے کردار کو مزید گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ