پیٹ میں جمی چربی فائدہ مند کیسے؟ تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پیٹ میں جمی کچھ اقسام کی چربی انفیکشنز اور سوزش سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
یہ تحقیق اس عمومی تاثر کے برعکس ہے جس میں پیٹ کی چربی کو مکمل طور پر صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
عام طور پر پیٹ اور اندرونی اعضا کے گرد موجود چربی، جسے وسرل فیٹ کہا جاتا ہے، کو ٹائپ ٹو ذیابیطس، دل کے امراض، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور کینسر کی بعض اقسام سے جوڑا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے، تاہم نئی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ تصویر کا ایک اور رخ بھی موجود ہے۔
سوئیڈن کے معروف تحقیقی ادارے کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ کے محققین کے مطابق وسرل فیٹ کی تمام اقسام یکساں نہیں ہوتیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ پیٹ کی چربی کئی مختلف اور جداگانہ حصوں پر مشتمل ہوتی ہے، جن میں سے بعض جسم کے مدافعتی نظام کو فعال کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف جیاوے ژونگ کا کہنا ہے کہ چربی کا ٹشو محض توانائی ذخیرہ کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ ایک فعال عضو کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ ان کے مطابق چربی کے خلیے ایسے کیمیائی سگنلز خارج کرتے ہیں جو جسم کے مدافعتی ردِعمل، سوزش اور انفیکشن کے خلاف دفاعی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
محققین کے مطابق چربی کی کچھ مخصوص اقسام انفیکشن کے دوران مدافعتی خلیات کو متحرک کرتی ہیں اور جسم کو بیماریوں سے لڑنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ اس دریافت سے مستقبل میں موٹاپے، سوزش اور مدافعتی امراض کے علاج کے لیے نئی راہیں کھلنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیٹ کی زیادہ چربی اب بھی صحت کے لیے خطرناک سمجھی جاتی ہے، تاہم اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ چربی کو مکمل طور پر نقصان دہ سمجھنا درست نہیں، بلکہ اس کے کردار کو مزید گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر