چین کے ساتھ معاہدہ کینیڈا کیلئے تباہ کن ہوگا: ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے حالیہ اقتصادی اور تجارتی اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ چین کے ساتھ کسی بھی بڑے معاہدے سے کینیڈا اپنی خودمختاری اور اقتصادی استحکام کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا خود کو منظم طریقے سے تباہ کر رہا ہے، چین کے ساتھ طے پانے والا یہ معاہدہ کینیڈا کی تاریخ کے بدترین تجارتی معاہدوں میں شمار ہوگا اور اس کے اثرات ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ کینیڈا کی زیادہ تر تجارت اب بھی امریکہ کے ساتھ ہے اور میں چاہتا ہیں کہ کینیڈا خوشحال اور مستحکم رہے، چین حکمت عملی کے تحت کینیڈا پر اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، امید کرتا ہوں کہ اس عمل کے دوران چین کینیڈا کی آئس ہاکی کو چھوڑ دے گا۔
دوسری جانب کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک چین کے ساتھ کسی جامع فری ٹریڈ معاہدے کی راہ پر نہیں چل رہا۔
اپنے بیان میں کینیڈین وزیر اعظم مارک نے کہا کہ موجودہ مذاکرات اور طے پانے والے معاہدے کی حدود محدود ہیں اور صرف چند منتخب شعبوں میں ٹیرف میں کمی تک محدود ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ کینیڈا کسی نان مارکیٹ اکانومی یا ایسے ملک کے ساتھ فری ٹریڈ ڈیل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا جو اس کے قومی مفادات کے لیے خطرہ ثابت ہو۔
ماہرین کے مطابق یہ تناؤ شمالی امریکہ اور ایشیا کے تجارتی تعلقات پر اثر ڈال سکتا ہے اور کینیڈا کے لیے چینی معاہدوں کی نوعیت اور دائرہ کار کے بارے میں عالمی سطح پر سوالات پیدا کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چین کے ساتھ کہ کینیڈا کینیڈا کی
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔