فیشن، فٹنس اور عادتیں؛ مشہور شخصیات کے دلچسپ لائف اسٹائلز
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
دنیا بھر میں مشہور شخصیات کا لائف اسٹائل ہمیشہ ہی سے عوام اور ان کے مداحوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔
کسی اداکار کی نئی فٹنس رُوٹین ہو، کسی گلوکار کے سفر کی جھلکیاں ہوں یا کسی اسپورٹس اسٹار کا منفرد فیشن، سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر چھوٹی بڑی سرگرمی وائرل خبر بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سلیبریٹی لائف اسٹائل خبروں کی دنیا میں ایک ایسی کیٹیگری بن چکی ہے جسے لاکھوں لوگ روزانہ فالو کرتے ہیں۔
آج کل مشہور شخصیات کی زندگیوں میں فٹنس کا عنصر سب سے نمایاں ہے۔ خواہ وہ جم میں سخت ورزش کی ویڈیوز ہوں یا یوگا اور میڈی ٹیشن کے سیشنز۔ اسٹارز اپنی صحت سے متعلق عادات مداحوں کے ساتھ باقاعدگی سے شیئر کرتے ہیں۔ کئی سلیبریٹیز کم کیلوری ڈائٹ، ڈی ٹاکس واٹر یا پھر ویگن فوڈ کی طرف مائل ہوچکے ہیں، جس سے ان کے مداحوں میں بھی صحت مند طرزِ زندگی کا رجحان پیدا ہوتاہے۔
اسی طرح فیشن کے میدان میں بھی سلیبریٹیز ہی ٹرینڈ سیٹر سمجھے جاتے ہیں۔ کسی ایوارڈ تقریب میں ایک منفرد ڈریس یا کسی فوٹو شوٹ کی نئی اسٹائلنگ چند ہی گھنٹوں میں ٹرینڈ بن جاتی ہے۔
پاکستانی ڈراما انڈسٹری کی معروف اداکارائیں جہاں مشرقی پہناوے کو عالمی سطح پر نمایاں کر رہی ہیں، وہیں نوجوان اداکار مغربی اور اسٹریٹ فیشن کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انسٹاگرام پر ان کی روزمرہ کی تصاویر اور ریلس مداحوں کو متاثر کرتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ٹریول بھی سلیبریٹی لائف اسٹائل کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ چاہے ترکی اور دبئی کے جدید اور دلکش مقامات ہوں یا شمالی پاکستان کی خوبصورت وادیاں، مشہور شخصیات اکثر اپنی سفری تصاویر کے ذریعے مداحوں کو نئی جگہوں سے متعارف کراتی ہیں۔ ان تصاویر سے نہ صرف ٹورزم کو فروغ ملتا ہے بلکہ نوجوان نسل کو بجٹ ٹریول کے آئیڈیاز بھی ملتے ہیں۔
اس کے علاوہ گھر کی سجاوٹ اور پرسنل کیئر بھی مداحوں کی توجہ حاصل کرتی ہے۔ لوگ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ ان کے پسندیدہ اسٹار کا گھر کس طرح کا ہے؟، کون سے پرفیوم یا اسکن کیئر پروڈکٹس استعمال کرتا ہے؟ اور اپنا فری ٹائم کن سرگرمیوں میں گزارتا ہے۔
کئی سلیبریٹیز نے حالیہ برسوں میں وی لاگز کے ذریعے اپنی نجی زندگی کے کئی گوشے کھول دیے ہیں، جنہیں خوب پذیرائی مل رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مشہور شخصیات کی لائف اسٹائل خبریں صرف تفریح نہیں فراہم کرتیں، بلکہ فیشن، فٹنس، ٹریول اور لائف اسٹائل ٹرینڈز کا رخ بھی متعین کرتی ہیں۔ مداحوں کے لیے یہ خبریں جہاں ان کی پسندیدہ شخصیت سے قربت کا احساس بھی دلاتی ہیں ، وہیں روزمرہ زندگی میں نئے آئیڈیاز اپنانے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مشہور شخصیات لائف اسٹائل
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔