8 فروری کے انتخابات پر جے یو آئی کا احتجاج، مولانا فضل الرحمان کا راولپنڈی میں جلسہ عام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کو دو سال مکمل ہونے پر جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے مبینہ دھاندلی کے خلاف جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 8 فروری کو راولپنڈی میں جلسہ عام کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں کو بھرپور تیاریوں کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے جے یو آئی راولپنڈی اور اسلام آباد کی تنظیموں کو جلسے کے انتظامات فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق جلسے میں انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کیا جائے گا اور عوام کو پارٹی مؤقف سے آگاہ کیا جائے گا۔
جے یو آئی قیادت کا کہنا ہے کہ 8 فروری 2024 کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ کو متاثر کیا گیا، جس کے خلاف سیاسی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ جلسہ عام میں پارٹی رہنما انتخابات میں شفافیت، جمہوریت کے تحفظ اور عوامی حقِ رائے دہی کے احترام پر زور دیں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق راولپنڈی جلسہ عام کو سیاسی لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس میں صوبہ پنجاب اور وفاقی دارالحکومت سے بڑی تعداد میں کارکنوں کی شرکت متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جے یو آئی
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔