ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا کیخلاف اسلام آباد میں وکلا کی ہڑتال و احتجاجی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سزا سنانے کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے عدالتوں کا 3 روزہ بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد بار کونسل، ہائیکورٹ بار، ڈسٹرکٹ بار نے آج سے تین روزہ ہڑتال کی کال دے رکھی ہے اور وکلاء صرف ارجنٹ کیسوں میں پیش ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب عدالتوں میں پولیس کے داخلے پر پابندی بھی لگا دی گئی ہے جس کے بعد وکلاء نے کینٹین پر بیٹھے پولیس اہلکاروں کو باہر نکال دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ اور اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، پولیس کی بھاری نفری اور بکتر بند گاڑی بھی عدالت کے باہر موجود ہے۔
حکومت پنجاب صحافیوں کیلئے اپنے گھر کی تعمیر میں بھرپور معاونت کرے گی،وزیراعلیٰ مریم نواز کی لاہور پریس کلب کی نومنتخب قیادت کو مبارکباد
وکلاء کی جانب سے سیشن جج ایسٹ کی عدالت کے باہر احتجاج کیا گیا، صدر بار ایسوسی ایشن نعیم گجر کی قیادت میں وکلاء سیشن عدالت کے باہر پہنچے، وکلاء کی جانب سے احاطہ کچہری کے اندر ریلی نکالی گئی۔
صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی ڈاکٹر، بابر اعوان سمیت دیگر وکلاء احتجاج میں شریک ہوئے جنہوں نے وکلاء کو انصاف دو کے بینرز اٹھا رکھے تھے۔
اس موقع پر ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ پہلے جج سڑک پر نکلے اب وکیل سڑکوں پر نکلے ہیں، وکلاء کیخلاف ریاست گردی چل رہی ہے، پولیس گردی شروع ہو چکی ہے جو سوسائٹی کیلئے نقصان دہ ہے، وکلا نے ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس پہنچ کر احتجاج ختم کر دیا۔
فیصل آباد؛ خاوند کو قتل کروانے والی بیوی آشنا سمیت گرفتار
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسلام آباد کی جانب
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔