آپ ایمان مزاری اور ہادی علی کو وکیل سمجھتے ہیں؟ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا وکیل سے استفسار
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
اسلام آباد ہائیکورٹ میں سول کیس کی سماعت کے دوران وکلاء ہڑتال کا معاملہ سامنے آگیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی عدالت مین ایک کیس کی سماعت کے دوران وکیل قیصر عباس گوندل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ آج بار نے ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، اس کیس میں سیکرٹری بار نے بھی پیش ہونا تھا لیکن ہڑتال کی وجہ سے پیش نہیں ہوئے، میں کیس میں اپنی طرف سے حاضر ہوں لیکن سیکرٹری بار منظور ججہ پیش نہیں ہوئے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ کس بات پر آج ہڑتال ہے، میری عدالت میں تو سب پیش ہو رہے ہیں، جس پر وکیل قیصر عباس گوندل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بار کے وکلاء کی گرفتاری پر آج ہڑتال ہے۔
چیف جسٹس سرفراز دوگر نے استفسار کیا کہ کون سے وکلاء گرفتار ہوئے ہیں؟، جس پر وکیل نے بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ گرفتار ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ کیا آپ انہیں وکلاء سمجھتے ہیں، چیف جسٹس کے استفسار پر وکیل خاموش رہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ اگر اپ انہیں وکلاء سمجھتے ہیں تو چیمبر میں آکر رائے دے سکتے ہیں۔ وکلاء ہڑتال کے باعث کیس کی سماعت میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس سرفراز ڈوگر
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔