سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق ایک اہم اور حتمی اصول طے کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ نے کرایہ داری سے متعلق ایک اہم اور حتمی اصول طے کر دیا،عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کےقانونی وارث ازخودمالک تصور ہوں گے اور نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں ہوگا۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نےسندھ ہائیکورٹ کابےدخلی کا فیصلہ درست قرار دےدیا،سندھ ہائیکورٹ نےکرایہ داروں کودکانیں خالی کر کےساٹھ دن کےاندرمالکان کےحوالےکرنےکا حکم دیا تھا،اس فیصلے کےخلاف دائراپیل پر چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اورجسٹس شکیل احمد پرمشتمل دو رکنی بینچ نےسماعت کی، جسٹس شکیل احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: پاکستان کا بھارت کیخلاف میچ کے بائیکاٹ کا امکان
سندھ ہائیکورٹ نےکرایہ داروں کودکانیں خالی کرکے60 دن میں مالک کےحوالےکرنےکا حکم دیا تھا،چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس سنا،جسٹس شکیل احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سےفیصلےمیں کہاگیا کہ اصل مالک کےانتقال کے بعد بیٹے نے قانونی نوٹس دے کر کرایہ اور بقایاجات ادا کرنےکا مطالبہ کیا،کرایہ داروں نے مالک کےانتقال اورجنازےمیں شرکت کا اعتراف کیامگرقانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہیں کیا،نوٹس کے باوجود کرایہ قانونی وارثوں کو دینے کے بجائےمتوفی مالک کےنام پر عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا، قانونی وارث نے کرایہ ادا نہ کرنے پر کرایہ داروں کے خلاف بےدخلی کی درخواست دائرکی،کرایہ داروں کا موقف تھا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ ہیں۔
امریکا میں نجی طیارہ گر کر تباہ، 8 افراد سوار
سپریم کورٹ کے مطابق نوٹس ملنے کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونا ادائیگی تصور نہیں ہوتا،قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے،جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: جسٹس شکیل احمد کرایہ داروں سپریم کورٹ کورٹ نے مالک کے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔