سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
سپریم کورٹ نے کرایہ داری کے معاملات میں ایک حتمی اور واضح اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث خودبخود مالک بن جاتے ہیں۔
عٖدالتی فیصلے کے مطابق اس مقصد کے لیے نئے کرایہ نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی تصور نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کیس کے تینوں ملزمان بری کر دیے
سپریم کورٹ نے اس بنیاد پر سندھ ہائیکورٹ کے کرایہ داروں کی بے دخلی کے فیصلے کو درست قرار دے دیا ہے۔
مذکورہ ٖفیصلے میں کرایہ داروں کو دکانیں خالی کر کے 60 دن کے اندر مالک کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کی 2 رکنی بینچ نے سنا، جبکہ جسٹس شکیل احمد نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
مزید پڑھیں:سپریم کورٹ میں وکلا کی عدم پیشی پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا سخت ردعمل، صدر بار طلب
عدالتی فیصلے کے مطابق اصل مالک کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے نے قانونی وارث کی حیثیت سے کرایہ داروں کو قانونی نوٹس جاری کر کے کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔
عدالت نے قرار دیا کہ کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف بھی کیا، اس کے باوجود انہوں نے قانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہیں کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ قانونی نوٹس کے باوجود کرایہ داروں نے کرایہ قانونی وارثوں کو ادا کرنے کے بجائے متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرانا جاری رکھا، جو قانوناً درست ادائیگی نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے پینشن سے متعلق تاریخی فیصلہ جاری کر دیا
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جب قانونی وارث کی جانب سے نوٹس دے دیا جائے تو متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ یہ عمل جان بوجھ کر ڈیفالٹ تصور کیا جاتا ہے۔
عدالت کے مطابق قانونی وارث کو کرایہ ادا نہ کرنا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا کرایہ داروں کی دانستہ خلاف ورزی ہے، اور جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار قانون کے تحت بے دخلی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے کرایہ داروں کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ رہ سکتے ہیں، اور قرار دیا کہ اس طرح کی ادائیگی انہیں قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جسٹس شکیل احمد جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس ڈیفالٹ سپریم کورٹ قانونی تحفظ کرایہ وارث.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جسٹس شکیل احمد جسٹس یحیی آفریدی چیف جسٹس ڈیفالٹ سپریم کورٹ کرایہ وارث سپریم کورٹ نے قانونی وارث کرایہ داروں کے نام پر نے کرایہ مالک کے
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔