WE News:
2026-06-02@23:35:01 GMT

سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

سپریم کورٹ نے کرایہ داری کا حتمی اصول طے کردیا

سپریم کورٹ نے کرایہ داری کے معاملات میں ایک حتمی اور واضح اصول طے کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مالک کے انتقال کے بعد اس کے قانونی وارث خودبخود مالک بن جاتے ہیں۔

عٖدالتی فیصلے کے مطابق اس مقصد کے لیے نئے کرایہ نامے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا کہ متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی تصور نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ نے 15 سال بعد قتل کیس کے تینوں ملزمان بری کر دیے

سپریم کورٹ نے اس بنیاد پر سندھ ہائیکورٹ کے کرایہ داروں کی بے دخلی کے فیصلے کو درست قرار دے دیا ہے۔

مذکورہ ٖفیصلے میں کرایہ داروں کو دکانیں خالی کر کے 60 دن کے اندر مالک کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

یہ مقدمہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کی 2 رکنی بینچ نے سنا، جبکہ جسٹس شکیل احمد نے 4 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ میں وکلا کی عدم پیشی پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا سخت ردعمل، صدر بار طلب

عدالتی فیصلے کے مطابق اصل مالک کے انتقال کے بعد اس کے بیٹے نے قانونی وارث کی حیثیت سے کرایہ داروں کو قانونی نوٹس جاری کر کے کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ کرایہ داروں نے مالک کے انتقال اور جنازے میں شرکت کا اعتراف بھی کیا، اس کے باوجود انہوں نے قانونی وارثوں کو کرایہ ادا نہیں کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ قانونی نوٹس کے باوجود کرایہ داروں نے کرایہ قانونی وارثوں کو ادا کرنے کے بجائے متوفی مالک کے نام پر عدالت میں جمع کرانا جاری رکھا، جو قانوناً درست ادائیگی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:   سپریم کورٹ نے پینشن سے متعلق تاریخی فیصلہ جاری کر دیا

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جب قانونی وارث کی جانب سے نوٹس دے دیا جائے تو متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ یہ عمل جان بوجھ کر ڈیفالٹ تصور کیا جاتا ہے۔

عدالت کے مطابق قانونی وارث کو کرایہ ادا نہ کرنا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا کرایہ داروں کی دانستہ خلاف ورزی ہے، اور جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار قانون کے تحت بے دخلی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے کرایہ داروں کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ رہ سکتے ہیں، اور قرار دیا کہ اس طرح کی ادائیگی انہیں قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جسٹس شکیل احمد جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس ڈیفالٹ سپریم کورٹ قانونی تحفظ کرایہ وارث.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جسٹس شکیل احمد جسٹس یحیی آفریدی چیف جسٹس ڈیفالٹ سپریم کورٹ کرایہ وارث سپریم کورٹ نے قانونی وارث کرایہ داروں کے نام پر نے کرایہ مالک کے

پڑھیں:

تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی

 ویب ڈیسک:کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی، ریسکیو نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا۔

  چیئرمین ریلوے نے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی جو 7 روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

 ترجمان ریلوے کے مطابق کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ لگ گئی جس پر پاور وین کو ٹرین سے الگ کردیا گیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

 آگ نے دیکھتے دیکھتے پوری پاور وین کو لپیٹ میں لے لیا، اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا جس کے بعد ٹرین کو راولپنڈی روانہ کردیا گیا۔

 چیئرمین ریلویز نے پاور وین میں آگ لگنے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو سات روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ