اسٹیبلشمنٹ کے ماتحت حکومت جمہوری نہیں جمہوریت دشمن ہوتی ہے،لیاقت بلوچ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260126-08-28
لاہور (صباح نیوز)نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وقت اور حالات نے ثابت کردیا ہے کہ عوام کی شمولیت کے بغیر کوئی پراجیکٹ کامیاب نہیں ہوسکتا۔منصورہ میں جاری مرکزی تربیت گاہ میں شریک بونیر اور شانگلہ کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پی پی پی،ن لیگ اور تبدیلی جیسے تجربات ناکام ہوگئے ہیں۔ نااہل حکمرانوں نے پارلیمانی نظام کے ساتھ ساتھ آئین و قانون،عدالت، معیشت،تعلیم اور صحت سب کچھ برباد کردیا ہے۔ پاکستان اپنے نظریہ اور آئین پر عمل پیرا ہوجائے تو دنیا میں ترقی و خوشحالی کی مثال بن سکتا ہے۔ آئین میں قرآن و سنت کی بالادستی کو تسلیم کیا گیا ہے۔سول اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا مسلط کردہ نظام اب مزید نہیں چل سکتا۔سیاسی قیادت کو مل بیٹھ کر سابقہ غلطیوںکو تسلیم کرتے ہوئے ان کا ازالہ کرنا ہوگا۔ مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے خلاف عالمی استعماری قوتوں کی سازشیں تیز ہوگئی ہیں۔ٹرمپ امن بورڈ میں شمولیت پاکستان کے قومی موقف سے روگردانی ہے۔ ٹرمپ امن بورڈ دراصل امریکہ کے نیو ورلڈ آرڈر ہی کا دوسرا نام ہے۔انہوں نے کہا کہ دھوکہ دینا اور ڈنک مارنا امریکہ سرشت میں شامل ہے۔ امریکا دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتا ہے مگر قدرت اپنی بالا دستی ہمیشہ قائم رکھتی ہے۔پاکستان بہترین محل وقوع رکھنے والا ملک ہے۔اللہ نے پاکستان کوایٹمی قوت بنایا۔ جدید اسلحہ اورفائبر ٹیکنالوجی سے لیس فوج دی۔ انہوں نے کہاکہ گوادر گہرے پانی کی بندرگاہ ہے جو دنیا بھر کی تجارت کا مرکز بن سکتی ہے۔ پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں اپنا خاص مقام رکھتا ہے مگراسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھے حکمران نااہل حکمران ملک و قوم کے عزت و وقار کو پامال کررہے ہیں۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ سیاسی قیادت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ان سے غلطیاں ہوئیں جس کا فائدہ اٹھا کر اسٹیبلشمنٹ کو اپنا ایجنڈا پورا کرنے کا موقع ملا۔حکمران اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار بن کر اقتدار پر قابض ہوجاتے ہیں اور پھر اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کے فیصلے کرواتی ہے۔انہوںنے کہا کہ سیاسی قیادت کو اپنی سابقہ غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے آئندہ ان غلطیوں کو دہرانے اور اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کار بننے سے توبہ کرنی ہوگی اور مل بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے ایک صاف شفاف اور غیر جانبدار انتخابی نظام پر اتفاق کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔