دنیا بھر میں آج صاف توانائی کا دن
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
دنیا بھر میں آج صاف توانائی کا دن منایا جارہا ہے، پاکستان نے سال 2015 میں پیرس معاہدے میں صاف توانائی کو سال 2030 تک 60 فیصد تک پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔
صاف توانائی سے مراد ایسی توانائی ہے جو ماحول کو آلودہ کیے بغیر، گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کیے بغیر اور قدرتی وسائل کو نقصان پہنچائے بغیر حاصل کی جائے۔
اس توانائی کے پائیدار ذرائع میں شمسی، ہوائی اور ہائیڈرو پاور پر مشتمل ہے پاکستان میں توانائی کے شعبہ کا زیادہ انحصار درآمدی ایندھن آئل، گیس اور کوئلہ پر ہے، جو ملکی زرمبادلہ اور گردشی قرضوں پر 2.
پاکستان بھر میں صاف توانائی کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ سولر پلیٹس ہیں، یہ سولر پلیٹس ماحول کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ سستی بجلی کے حصول میں ایک موثر زریعہ بن گئی ہیں ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق پاکستان نے سال 2024 میں 17 گیگا واٹس سولر پینلز درآمد کیے جو ملک کی مجموعی توانائی کی پیداواری صلاحیت کا 36 فیصد بنتا ہے۔
حکومت کی نئی انرجی پالیسی کے تحت نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کر دیا گیا ہے شہریوں کے مطابق یہ پالیسی صاف توانائی کے فروغ میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق صاف توانائی کا استعمال نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد دے گی بلکہ ایندھن کی درآمدات پر خرچ ہونے والے خطیر زرمبادلہ میں کمی لانے کا سبب بھی بنے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: صاف توانائی توانائی کے
پڑھیں:
چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
چین نے اپنی خلائی سرگرمیوں میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے جمعہ کے روز لیجیان-1 وائی 15 کیریئر راکٹ کے ذریعے 5 مصنوعی سیٹلائٹس کامیابی سے خلا میں بھیج دیے۔
چینی حکام کے مطابق راکٹ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 33 منٹ پر شمال مغربی چین میں واقع ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے لانچ کیا گیا۔
کامیاب پرواز کے بعد راکٹ نے تمام 5 سیٹلائٹس کو ان کے مقررہ مدار میں پہنچا دیا، جس کے ساتھ مشن اپنے تمام اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
اس موقع پر جاری بیان میں کہا گیا کہ تمام سیٹلائٹس منصوبہ بندی کے مطابق اپنے مخصوص مدار میں داخل ہو گئے ہیں، جس سے لانچنگ کی کامیابی کی تصدیق ہوگئی۔
یہ مشن چین کے تجارتی خلائی پروگرام کی مسلسل پیش رفت کا مظہر ہے، حالیہ برسوں میں چین نے سیٹلائٹ لانچنگ، خلائی تحقیق اور تجارتی خلائی سرگرمیوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور ملک اپنے خلائی پروگرام کو مزید وسعت دینے کے لیے مختلف راکٹ مشنز اور سیٹلائٹ منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے کامیاب مشنز نہ صرف چین کی لانچنگ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بناتے ہیں بلکہ تجارتی خلائی صنعت کی ترقی اور مستقبل کے خلائی منصوبوں کے لیے بھی اہم سنگ میل تصور کیے جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چین خلائی مشن سیٹلائٹ مدار