رقمی اسلامی ڈیجیٹل بینک فروری میں پاکستان میں اپنے آپریشنز کا آغاز کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
رقمی اسلامی ڈیجیٹل بینک آئندہ ماہ فروری میں پاکستان میں اپنے باقاعدہ آپریشنز کا آغاز کرنے جا رہا ہے، جس کے لیے ابتدائی طور پر 10 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس ڈیجیٹل بینک کا قیام کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کے تعاون سے عمل میں آیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے اس پیش رفت کو پاکستان کی بہتر ہوتی ہوئی معاشی صورتحال اور جاری ساختی اصلاحات پر عالمی اعتماد کا واضح ثبوت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان مالیاتی اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔
خرم شہزاد کے مطابق یہ سرمایہ کاری پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی مالیاتی نظام کے استحکام کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مؤثر سہولت کاری پاکستان میں ایک جدید، پائیدار اور جامع مالیاتی نظام کی راہ ہموار کر رہی ہے، جو معیشت کی طویل المدتی بہتری کے لیے نہایت اہم ثابت ہوگی۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل پاکستان میں
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔