پاکستان امریکا مثبت اور تعمیری روابط نے بھارت میں بے چینی پیدا کردی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پاکستان اور امریکا کے درمیان مثبت اور تعمیری روابط نے نئی دہلی میں بے چینی پیدا کردی ہے۔
رپورٹس کے مطابق مئی 2025 کے بعد سے بھارت کو واشنگٹن کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا سامنا ہے، جبکہ اسی دوران بھارت نے روس اور یورپی یونین کے ساتھ سیاسی، معاشی اور دفاعی روابط میں توسیع کی ہے۔
مزید پڑھیں: اصلاحات اور استحکام کے بعد پاکستان امریکا کے لیے اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر ابھرنے لگا
پاک بھارت جنگ رکوانے کا کریڈٹ ڈونلڈ ٹرمپ کو نہ دینے کا مودی سرکار کا فیصلہ بھی غلط ثابت ہوا، جس کے بعد امریکی صدر اپنی ہر گفتگو میں بھارتی طیارے گرائے جانے کا تبصرہ کرتے ہیں۔
بھارت اب فیس سیونگ اور اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے مختلف حربے اپنا رہا ہے اور لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر امریکا نے ہاتھ کھینچ لیا ہے تو بھارت کے پاس متبادل آپشن بھی موجود ہیں، لیکن اصل میں بھارت کے ایوانوں میں پریشانی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے بھارت نے یورپی یونین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈر لائین کی آمد کی بھارت آمد کا خیرمقدم کیا ہے۔
دونوں رہنماؤں کو بھارت کے 77ویں یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں بطور مہمانِ خصوصی مدعو کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت امریکی حکام کے دوروں اور 2026 میں ہونے والے یورپی یونین۔بھارت سمٹ کو محض نمائشی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے تاکہ یورپی یونین اور امریکا کی حمایت کا تاثر دیا جا سکے اور خود کو ایک متبادل طاقت کے مرکز کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق بھارت کے ساتھ فوجی روابط کو اس کے علاقائی طرزِعمل یا کشیدگی بڑھانے کے رویے کی توثیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا میں استحکام مکالمے سے گریز اور نمائشی عسکریت پسندی سے کمزور ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک شراکت داریوں کو رسمی سفارت کاری کے بجائے رویّے اور نتائج کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے۔
’بھارت کی جانب سے روس کے ساتھ دفاعی، توانائی اور سیاسی تعاون میں اضافہ براہِ راست امریکا اور یورپ کی ان کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے جن کا مقصد ماسکو پر دباؤ ڈالنا ہے۔‘
مزید کہا گیا ہے کہ بھارت اس وقت اسٹریٹجک ہم آہنگی کا دعویٰ نہیں کر سکتا جب وہ ایسے تنازع سے فائدہ اٹھا رہا ہو جسے مغربی دنیا محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق وقتی فائدے کے لیے اختیار کی گئی متوازن حکمتِ عملی وقتی لچک تو فراہم کر سکتی ہے، تاہم وقت کے ساتھ اتحادیوں کے اعتماد اور پیش گوئی کی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ بھارت کی قربت، جسے یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے ذریعے نمایاں کیا جا رہا ہے، دراصل امریکی اثرورسوخ کے متبادل کے طور پر دکھانے کی کوشش ہے، نہ کہ مغربی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا بھارت کشیدگی: نریندر مودی کا 7 برس بعد چین کا دورہ کرنے کا فیصلہ
اس طرزِعمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ بھارت مغرب سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اس کے فیصلوں کو بغیر کسی ضبط، احتساب یا ذمہ داری کے قبول کرے۔
اس کے برعکس پاکستان انسدادِ دہشتگردی، بحرانوں کے انتظام اور علاقائی خطرات میں کمی کے لیے مغربی سلامتی مقاصد کے مطابق تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت پاک امریکا تعلقات پریشانی میں اضافہ مودی سرکار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاک امریکا تعلقات پریشانی میں اضافہ مودی سرکار وی نیوز یورپی یونین کے مطابق بھارت کے کے ساتھ بھارت ا کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔