واشنگٹن میں پاکستان کی شاندار سفارتی کامیابی،بین الاقوامی جریدے کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: بین الاقوامی جریدے ’’دی ڈپلومیٹ’’ نے پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی تعریف میں پل باندھ دیئے۔
’’ دی ڈپلومیٹ‘‘ کےمطابق بھارت جو امریکاکا اتحادی سمجھا جاتا تھا،اب 50 فیصدامریکی ٹیرف اور صدارتی دورے سےمحرومی کا شکار ہے،مئی 2025 کے پاک بھارت تنازعہ پر امریکی ثالثی کے دعوے کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد تعلقات گہری منجمد کیفیت میں داخل ہو گئے ہیں۔
’’دی ڈپلومیٹ‘‘ کےمطابق اسی بحران کو پاکستان نےسفارتی موقع میں بدلا اورصدرٹرمپ کےثالثی کردار کو بھرپور انداز میں سراہا،چار روزہ پاک بھارت جنگ کے بعدصدرٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف کووائٹ ہاؤس میں مدعوکیا،ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہبازشریف اورفیلڈمارشل سیدعاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا،ڈونلڈٹرمپ اور فیلڈمارشل سیدعاصم منیر کے درمیان گفتگو سیکیورٹی سے آگے بڑھ کر تجارت اور سرمایہ کاری تک پھیل گئی۔
’’ دی ڈپلومیٹ‘‘ کا کہنا ہے کہ ثالثی کے دعوےکوخودمختاری کی توہین قرار دینے کے بعد بھارت کو نہ QUAD Summit ملی، نہ ٹرمپ کا دورہ اور نہ ہی تجارتی ریلیف حاصل ہو سکا،پاک امریکا انسداد دہشت گردی تعاون دوبارہ بحال ہوگیا اورتعلقات کےپرانےستون کونئی زندگی ملی، جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کےدرمیان ٹیرف میں کمی کا اہم تجارتی معاہدہ طے پایا، معاہدے کےتحت امریکی کمپنیوں کی پاکستان کے وسائل میں طویل المدتی سرمایہ کاری شامل ہے۔
صدر ٹرمپ نےاعلان کیا کہ امریکا اور پاکستان مل کر بڑے تیل ذخائر کو ترقی دیں گے،دسمبر 2025 میں پاکستان نے ایف 16 طیاروں کو اپ گریڈکرنے کے لیے امریکی منظوری حاصل کی،ایف 16 اپ گریڈ پیکج کی مجموعی مالیت 680 ملین ڈالر بتائی گئی، جنوری 2026 میں پاکستان نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات کی تجدید پر بھی زور دیا۔
’’دی ڈپلومیٹ‘‘ کےمطابق امریکا نےبلوچ لبریشن آرمی اورمجید بریگیڈکودہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا،بھارت کےساتھ تجارتی معاہدہ نہ ہونے پرامریکا نےبھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائدکردیا،ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیروں میں بھارتی حکومت کے خلاف شدید ناراضی پائی جاتی ہے.
سٹی @ 10 ,24 جنوری، 2025
ماہرین کاکہنا ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی اسٹریٹجک اہمیت اور اثر و رسوخ کو نئی بلندیوں پرپہنچایا، اسلام آباد کی دانشمندانہ سفارت کاری نےامریکا کےساتھ تعلقات کومضبوط اورپائیدار بنایا، پاکستان نےعلاقائی چیلنجزکو فائدےمیں بدل کراپنےعالمی کردارکو اجاگرکیا،واشنگٹن میں پاکستان کی مہارت اورحکمت عملی نےخطے میں اس کی سیاسی واقتصادی قوت کوبڑھایا،صدرٹرمپ کی ثالثی کو جھٹلاتےہوئےمودی نے بھارت کو سفارتی تنہائی، بھاری ٹیرف اور امریکی ناراضی کے حوالے کر دیا۔
بائیک رائیڈر کا ’’دھوم‘‘ اندار میں اپنی محبوبہ کو پرپوزل، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: میں پاکستان دی ڈپلومیٹ پاکستان نے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔