بنگلہ دیش کا شیخ حسینہ کی تقریر پر بھارت کے خلاف سخت ردعمل، خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کی حکومت نے بھارت میں مفرور سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو 23 جنوری کو نئی دہلی میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کی اجازت دیے جانے پر شدید حیرت اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے، اور ان پر تشدد کو ہوا دینے اور موجودہ حکومت کے خلاف بغاوت پر اکسانے کا الزام عائد کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخ حسینہ جنہیں بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کی جانب سے انسانیت کے خلاف جرائم میں سزا سنائی جا چکی ہے، نے بھارت میں فراہم کردہ پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے اپنی جماعت کے حامیوں اور عوام کو بنگلہ دیش کے آئندہ عام انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے لیے دہشتگردی کی کارروائیوں پر اکسانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: شیخ حسینہ واجد نے سیاست سے توبہ کرلی، ’عوامی لیگ قائم رہے گی‘، بیٹے کا اعلان
بنگلہ دیش نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیاکہ بھارت نے دوطرفہ حوالگی معاہدے کے تحت شیخ حسینہ کی حوالگی کے لیے کی گئی بارہا درخواستوں پر کوئی کارروائی نہیں کی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے شیخ حسینہ واجد کو اپنی سرزمین سے اشتعال انگیز بیانات دینے کی اجازت دی گئی، جسے بنگلہ دیش کی جمہوری منتقلی کے عمل کے ساتھ ساتھ امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ بھارتی دارالحکومت میں اس نوعیت کے پروگرام کی اجازت دینا بین الاقوامی تعلقات کے مسلمہ اصولوں، بشمول خودمختاری کے احترام، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور اچھے ہمسایہ تعلقات، کے منافی ہے۔ ڈھاکہ نے اس پیش رفت کو بنگلہ دیشی عوام اور حکومت دونوں کے لیے واضح توہین قرار دیا۔
علاقائی سطح پر ممکنہ اثرات سے خبردار کرتے ہوئے حکومت نے کہا کہ یہ واقعہ بنگلہ دیش اور بھارت کے تعلقات کے مستقبل کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے اور ڈھاکہ میں کسی بھی آئندہ منتخب حکومت کی نئی دہلی کے ساتھ باہمی مفاد پر مبنی تعلقات برقرار رکھنے اور مضبوط بنانے کی صلاحیت کو کمزور کر سکتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عوامی لیگ کی قیادت کی جانب سے حالیہ بیانات نے عبوری حکومت کے اس فیصلے کو تقویت دی ہے جس کے تحت پارٹی کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی۔
مزید پڑھیں: حسینہ واجد عام انتخابات میں بھاری کامیابی کیسے حاصل کرتی رہیں؟
بنگلہ دیش نے خبردار کیاکہ انتخابات سے قبل یا ان کے دوران کسی بھی قسم کے تشدد یا دہشتگردی کے واقعات کی ذمہ داری عوامی لیگ پر عائد کی جائے گی، اور انتخابی عمل کے خلاف قرار دی گئی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بنگلہ دیش تقریر خبردار کردیا شیخ حسینہ واجد وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش خبردار کردیا شیخ حسینہ واجد وی نیوز حسینہ واجد کی جانب سے بنگلہ دیش کہا گیا کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔