Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:15:26 GMT

افغان طالبان رجیم میں افغانستان کا اقتصادی مستقبل تاریک

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

افغان طالبان رجیم میں افغانستان کا اقتصادی مستقبل تاریک

افغان طالبان رجیم کی اقتدار میں واپسی کے بعد افغانستان کی معیشت بدترین زبوں حالی کا شکار ہو چکی ہے۔ ماہرین اور سابق حکومتی عہدیداران کے مطابق طالبان حکومت کی تمام تر توجہ ملکی معیشت کی بحالی کے بجائے جبر و استبداد، عسکریت پسندی اور دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی پر مرکوز ہے، جس کے باعث معاشی ترقی کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

افغانستان انٹرنیشنل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سابق افغان وزیر خزانہ انوار الحق احدی نے طالبان رجیم کے معاشی ترقی سے متعلق دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے ضروری قانونی اور انتظامی فریم ورک موجود ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں قانونی ڈھانچے کا فقدان ہے جبکہ ریاستی اداروں پر طالبان حمایت یافتہ افراد کی اجارہ داری قائم ہو چکی ہے۔

سابق وزیر خزانہ نے مزید انکشاف کیا کہ افغانستان میں سرمایہ کاروں کے لیے نہ مناسب سیکیورٹی دستیاب ہے اور نہ ہی تربیت یافتہ انسانی وسائل موجود ہیں، جس کے باعث سرمایہ کاری کا ماحول انتہائی غیر محفوظ ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی پابندیاں اور واضح معاشی پالیسیوں کی عدم موجودگی نے سرمایہ کاری کے امکانات کو مزید محدود کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ میں بھی افغانستان کی تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گردی اور تباہ حال معیشت کے باعث افغانستان میں بے روزگاری کی شرح 75 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ملک میں موجود دہشت گرد گروہ علاقائی امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے زیرِ تسلط افغانستان کو 2026 میں ایک بڑے معاشی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی ناقص پالیسیاں ہی افغانستان میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی اور انسانی بحران کی بنیادی وجہ ہیں۔ عسکریت پسندی کے باعث افغانستان کے پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات بھی تعطل کا شکار ہو چکے ہیں، جس سے تجارت اور سرمایہ کاری مزید متاثر ہو رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق جب تک افغانستان میں شفاف نظامِ حکومت، قانونی فریم ورک اور امن و استحکام قائم نہیں ہوتا، اس وقت تک ملک کی معیشت کی بحالی ممکن نظر نہیں آتی اور افغان عوام کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: افغانستان میں طالبان رجیم سرمایہ کاری کے مطابق کے باعث

پڑھیں:

قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟

سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔

امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔

محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔

Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.

Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH

— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026

انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔

قاتل وہیل۔

کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔

یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری

تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔

اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔

تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا

گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔

سن فش۔

ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔

تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور

ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق