دہشت گردی، بھارت اور افغانستان
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں نئی بات نہیں ہے، پاکستان کے دو صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔ اگلے روز بھی خیبرپختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی تقریب میں خودکش دھماکے میں امن کمیٹی کے سربراہ سمیت 5 افراد شہید ہو گئے جب کہ 10 شدید زخمی ہوئے ہیں۔
میڈیا کی اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں سے بھی کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ میڈیا میں اس واقعے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ قریشی موڑ میں مقامی امن کمیٹی کے ممبر نور حسن کے بھتیجے کی شادی تھی جس میں امن کمیٹی کے سربراہ عبد الوحید جگری سمیت کمیٹی کے دیگر ممبران شریک تھے۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کا ٹارگٹ عبدالوحید جگری تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا ایک کمرے میں ہوا جہاں مہمان موجود تھے۔ عبد الوحید جگری، عبدالمجید لاگری ایڈووکیٹ اور 3 نامعلوم موقع پر چل بسے۔ ڈی پی او ڈیرہ اسماعیل خان سجاد احمد صاحبزادہ کے مطابق خودکش حملہ آور کا سر مل گیا، زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا، تحقیقات اور شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
دہشت گردی کی اس بزدلانہ کارروائی کے پسِ پردہ محرکات کا جلد سراغ لگا لیا جائے گا۔ خودکش بمبار کی عمر سولہ سال بتائی جاتی ہے۔ اچانک ہونے والے اس حملے نے خوشیوں بھرے گھر کو ماتم کدے میں بدل دیا۔ دھماکے کی شدت کے باعث قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
دہشت گردی کی اس واردات کی ذمے داری کسی نے قبول نہیں کی ہے، تاہم یہ حقیقت ہے کہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بھی موجود ہیں اور وہاں ان کے سہولت کار بھی موجود ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے گزر کر ضلع ٹانک آ جاتا ہے اور اس سے آگے جنڈولہ اور پھر اس کے بعد جنوبی وزیرستان شروع ہو جاتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو یہ شہر خاصا حساس بھی ہے۔ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع جن میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، کرک، بنوں اور کوہاٹ وغیرہ شامل ہیں، یہاں اکثر اوقات دہشت گردی کی وارداتیں ہوتی ہیں۔
یہ صورت حال خاصی تشویشناک ہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں جن میں ضلع خیبرکا علاقہ تیرہ شامل ہے، وہاں بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی تیاریاں ہیں، دہشت گردی پاکستان میں کیوں ہو رہی ہے اور اس کے محرکات کیا ہیں، اس کے بارے میں حقائق پالیسی ساز حلقوں کو بھی بخوبی معلوم ہیں جب کہ ملک کے فہمیدہ حلقے بھی حالات وواقعات سے خاصی حد تک آگاہ ہیں۔ افغانستان کا کردار اس حوالے سے سب کے سامنے ہے۔ افغانستان میں جس قسم کی حکومت برسراقتدار ہے، اس کے نظریات اور پالیسی کے بارے میں کسی کو شک وشبہ نہیں ہے۔ افغانستان میں انسانی حقوق کی جس انداز میں پامالی ہو رہی ہے، اسے بھی دنیا اچھی طرح جانتی ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کرنے والے گروہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور یہ کام عرصہ دراز سے جاری ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت کو متعدد بار اپنے تحفظات سے آگاہ بھی کیا ہے۔ اس کے باوجود افغان طالبان نے اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کی ہیں۔
افغانستان میں برسراقتدار طالبان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں طالبان کو افغانستان کا اقتدار ملا ہے۔ اس معاہدے کے تحت افغانستان نے وعدہ کیا کہ افغانستان کی سرزمین دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ افغانستان کی طالبان حکومت افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔
افغان خواتین کو برابر کے حقوق دے گی جب کہ افغانستان کے عبوری سیٹ اپ میں وہاں کی تمام نسلی اور لسانی اکائیوں کو مناسب نمائندگی بھی دی جائے گی لیکن افغانستان کی عبوری حکومت نے اپنے وعدوں پر عمل درآمد نہیں کیا۔ جب سے افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہوئی ہے، پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں۔
ٹی ٹی پی کے لوگ افغان سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کر رہے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بہت سی وارداتوں میں افغانستان کے شہری بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تاجکستان میں بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیں اور ان وارداتوں میں چین کے باشندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان وارداتوں میں بھی افغانستان کی سرزمین استعمال ہوئی ہے۔ تاجکستان کی حکومت نے افغانستان کی حکومت سے احتجاج بھی کیا ہے جب کہ چین نے بھی افغانستان سے کہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔ یوں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ اردگرد کے ممالک کے لیے مسائل کا سبب بن رہے ہیں لیکن طالبان کی حکومت شاید حقائق تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
پاکستان نے افغانستان کی تعمیر وترقی کے لیے ہمیشہ نیک خواہشات کا ہی اظہار نہیں کیا بلکہ عملی طور پر کام بھی کیا ہے۔ دوحہ میں جو مذاکرات ہوئے، ان کے انعقاد کے لیے بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے لیکن افغان طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کے بجائے بھارت کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے۔ اب بھارت اور افغانستان ایک دوسرے کے اتحادی ملک تصور ہو رہے ہیں۔ بھارت کی پاکستان کے ساتھ دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت کے اپنے دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی تعلقات خوشگوار نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش کی مثال سب کے سامنے ہے۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد بھارت میں پناہ گزیں ہیں جب کہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ادھر حالیہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی بھارت نے انتہائی غلط قدم اٹھاتے ہوئے بنگلہ دیش کو اس ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا ہے۔ بنگلہ دیش نے بھارت میں ٹیم بھیجنے سے انکار کیا تھا۔ اس کی وجہ بھی بتائی تھی کہ بھارت نے آئی پی ایل سے بنگلہ دیش کے کھلاڑی کو نکال دیا تھا اور بہانہ یہ بنایا تھا کہ اس کی سیکیورٹی کا ایشو ہے۔ اس پر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا یہ مؤقف بجا نظر آتا ہے کہ اگر ایک کھلاڑی کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں ہے تو پھر پوری بنگلہ دیشی ٹیم کی ضمانت کیسے دی جاسکتی ہے۔
اصولی طور پر تو آئی سی سی کو اس حوالے سے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ساتھ دینا چاہیے تھا کیونکہ بنگلہ دیش کا مؤقف درست تھا۔ بھارت کے ساتھ بنگلہ دیش کے میچ سری لنکا شفٹ کیے جا سکتے تھے لیکن آئی سی سی نے ایسا نہیں کیا۔ آئی سی سی میں بھارت کا کنٹرول ہے۔ اس اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے بھارت نے بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ سے ہی باہر کرا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب بنگلہ دیش کی جگہ آئی سی سی نے اسکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا ہے اور اس حوالے سے باضابطہ اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔ اب اسکاٹ لینڈ اپنا پہلا میچ 7 فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گی۔
یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا کے ہر ملک کو نیچا دکھانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ آئی سی سی بھی اس کے اثر میں ہے۔ بہرحال اس ساری کہانی کو بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اس وقت بھارت اور افغانستان ایک دوسرے کی بانھوں میں بانہیں ڈال کر کھڑے ہیں۔ بھارت افغانستان کو استعمال کر کے پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ افغانستان کی قیادت کو اس حوالے سے اپنے طرزعمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے عوام طالبان کی اس پالیسی کے حق میں نہیں ہیں۔
افغانستان کا عام باشندہ پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کے حق میں ہے۔ ویسے بھی طالبان کو یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ بھارت ان کا بھی دوست نہیں ہے۔ افغانستان کے طالبان اگر اپنے معاملات کو دوحہ معاہدے کے مطابق چلاتے تو شاید انھیں بھارت کی گود میں بیٹھنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ افغانستان بھی جنوبی ایشیا کا اہم ملک ہے۔ ساؤتھ ایشیا کے ایک مسلمان ملک بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کا سلوک سب کے سامنے ہے۔ افغانستان کے طالبان کو اس حوالے سے بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں افغانستان کے عوام کے حق میں ہرگز نہیں ہیں۔ افغانستان کے طالبان کو ایسے نازک حالات میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اقوام عالم کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدے پورے کرنے کے قابل ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں ڈیرہ اسماعیل خان خیبرپختونخوا کے افغانستان میں کہ افغانستان افغانستان کے افغانستان کی بنگلہ دیش کی اس حوالے سے استعمال کر پاکستان کے طالبان کو کمیٹی کے کے مطابق کہ بھارت کی حکومت کے خلاف کے ساتھ بھی کیا نہیں کی نہیں ہے کر دیا سے بھی کیا ہے کے لیے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔