بھارت،گنتی نہ لکھ سکنےپرسفاک باپ نےمعصوم بیٹی کوقتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فرید آباد: بھارت میں بدبخت اور سفاک باپ نے گنتی نہ لکھ سکنے پر معصوم بیٹی کو قتل کردیا۔
فرید آباد میں باپ نے ظلم کی تمام حدیں پار کر دیں، اس نے گنتی نہ لکھ پانے کی وجہ سے اپنی 4سالہ بیٹی کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے ملزم باپ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس ترجمان یشپال سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ 31 سالہ کرشنا جیسوال اصل میں اتر پردیش کا رہنے والا ہے۔ وہ اس وقت اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ فرید آباد کے سیکٹر 58 میں کرائے کے مکان میں رہتا ہے۔
یہ جوڑا ایک پرائیوٹ کمپنی میں کام کرتا ہے، بیوی دن میں کام کرتی ہے، جب کہ شوہر رات کو کام کرتا ہے۔
دن کے وقت شوہر نے گھر میں رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کرتا اور بچوں کو پڑھاتا تھا۔
اسی دوران گزشتہ دنوں باپ نے اپنی 4سال کی معصوم بیٹی کو 50 تک گنتی لکھنے کے لیے کہا،جب نہ لکھ پائی تو اس نے بیلن سے مارنا شروع کر دیا، اس دوران بچی کی موت ہو گئی۔
پولیس ترجمان نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب اس کی بیوی شام کو گھر واپس آئی تو اس نے بچی کو مردہ پایا۔
وہ بچی کو اسپتال لے گئی، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
اسی دوران کرشنا کے 7سالہ بیٹے نے اپنی ماں کو پوری کہانی بتائی۔ بیٹے نے بتایا کہ اس کے باپ نے بچی کو 50 تک گننے کے کا کام دیا تھا۔ جب وہ نہیں لکھ سکی تو اس کی پٹائی شروع کر دی، جس کے بعد بچی کی موت ہو گئی۔
پولیس ترجمان یشپال سنگھ نے مزید کہا کہ اپنا جرم چھپانے کے لیے ملزم نے اپنی بیوی کو بتایا کہ بچی سیڑھیوں سے نیچے گر گئی ہے، لیکن جھوٹ زیادہ دیر نہیں چل سکا۔ اس کے بعد بیوی نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ شکایت ملنے پر پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔
گرفتاری کے بعد پولیس نے ملزم سے سختی پوچھ گچھ کی، دوران تفتیش ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔
فرید آباد سیکٹر-58 تھانے کے ایس ایچ او آزاد سنگھ نے کہا کہ ملزم باپ نے گنتی نہ لکھ پانے پر لڑکی کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں اس کی موت ہوگئی۔ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔ اسے عدالت میں پیش کیا گیا اور ایک دن کے پولیس ریمانڈ پر لیا گیا۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گنتی نہ لکھ بیٹی کو باپ نے کر لیا
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔