گھریلو تشدد کی روک تھام، بیوی بچوں کا سماجی تحفظ: متعدد بل منظور، اعتراضات مسترد
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار +خبر نگار+ نوائے وقت رپورٹ) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کے احتجاج اور صدر مملکت کی جانب سے اعتراضات کے باوجود بلز منظور کر لئے گئے۔ اجلاس سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں مقررہ وقت سے 35 منٹ تاخیر سے شروع ہوا، جس میں قانون سازی کے متعدد اہم نکات زیر بحث آئے۔ اپوزیشن کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا۔ مشترکہ اجلاس میں صدر مملکت کی جانب سے دانش سکولز اتھارٹی بل اور گھریلو تشدد سے متعلق بل پر اعتراضات سامنے آئے، جن میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت دانش سکولز اتھارٹی بنانے سے قبل صوبوں کے ساتھ مشاورت کرے۔ گھریلو تشدد سے متعلق بل کو مبہم قرار دیتے ہوئے تجویز کردہ سزاؤں پر بھی اعتراض کیا گیا اور کہا کہ گھریلو تشدد سے متعلق بل کو موجودہ شکل میں منظوری دینے کے بجائے اس پر دوبارہ غور کیا جائے۔ مشترکہ اجلاس میں قومی کمشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل پیش کیا گیا، جو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے ایوان میں پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ مری نے بل میں ترمیم پیش کی، جس کی حکومت نے حمایت کی۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق بل پر جے یو آئی کی جانب سے پیش کی گئی ترامیم مسترد کر دی گئیں، جو سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران نے پیش کی تھیں۔ بعد ازاں پارلیمنٹ نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل 2025 کی منظوری دے دی۔ جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دانش سکولز بل پر صوبوں کو اعتماد میں لینے سے متعلق صدر مملکت کی ایڈوائس ایوان میں پڑھ کر سنائی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے بلز پر صوبوں سے مشاورت کا کہا تھا جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اس دوران سپیکر نے اپوزیشن کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے منظوری کا عمل شروع کر دیا، جس پر اپوزیشن نے نعرے بازی کی۔ دونوں ایوانوں کے قائد حزب اختلاف اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے جبکہ اپوزیشن ارکان ایوان میں نعرے لگاتے رہے۔ پی ٹی آئی کے اراکین نے سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج کیا۔ اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے بھی نعرے بازی کی۔ اس موقع پر محمود خان اچکزئی اور سینیٹر راجا ناصر عباس کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین کا سپیکر ڈائس کے سامنے احتجاج جاری رہا جبکہ دیگر اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی بھی جاری رہی۔ اپوزیشن کے احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے باوجود پارلیمنٹ نے دانش سکولز اتھارٹی بل کی بھی منظوری دے دی۔ گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025ء منظوری کے لیے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر جے یو آئی ارکان نے گھریلو تشدد بل پر صدر کے اعتراضات ایوان میں پیش کیے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ صدر کے اعتراضات کو نظرانداز نہ کیا جائے۔ عالیہ کامران کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن گھریلو تشدد بل پر بات کرنا چاہتے ہیں ، تاہم سپیکر نے ریمارکس دیے کہ جس رکن نے ترامیم پیش نہیں کیں، اسے بات نہیں کرنے دوں گا۔ بعد ازاں ایوان نے سینیٹر کامران مرتضیٰ اور عالیہ کامران کی ترامیم مسترد کردیں۔ بعد ازاں پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج ختم کردیا اور اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے، تاہم اقبال آفریدی اور انجینئر حمید حسین کا تیراہ آپریشن سے متعلق احتجاج جاری رہا۔ اسی دوران ایوان میں گھریلو تشدد روک تھام و تحفظ بل 2025کی منظوری کا عمل شروع کردیا گیا۔ وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ گھریلو تشدد بل میں مردوں کو بھی پہلی بار شامل کیا گیا ہے۔ مرد بے چارے تو کبھی ایسے بل میں آتے ہی نہیں تھے، اچھا ہوگیا ان کو بھی گھریلو تشدد سے تحفظ ملے گا۔ ایوان میں ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے کراچی میں سانحہ گل پلازہ پر حکومت اور اپوزیشن کی دستخط شدہ مشترکہ قرارداد پیش کی گئی۔ شیری رحمان نے کہا کہ اس قرارداد پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ ہم نے اس پر دستخط کیے ہیں۔ سانحہ گل پلازہ ایک سنگین حادثہ تھا۔ ہم اس قرارداد کو سراہتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے کسی شہر کا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے۔ وفاقی حکومت بھی امداد فراہم کرے۔ قرارداد منظور کرلی گئی، جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان گل پلازہ میں شہید ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ گل پلازہ حادثے سے متعلق تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ اس موقع پر اقبال آفریدی نے تقریر میں مداخلت کی کوشش کی، جس پر سپیکر نے کہا کہ اگر آپ مداخلت کریں گے تو اجلاس ملتوی کردوں گا۔ علامہ راجا ناصر عباس نے مشترکہ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا ایک حساس موڑ سے گزر رہی ہے۔ غزہ کے لوگ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عالمی عدالت انصاف نے نیتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا ہے، نیتن یاہو آئے دن حملے اور قبضے کر رہا ہے۔ ہم اتفاق رائے کے بغیر پیس بورڈ کا حصہ بن گئے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے اپنی آزادی اور خود مختاری کی مثال قائم کی، جب امریکا نے ایٹمی دھماکے روکنے کے لیے 5 فون کالز کیں۔ پوری دنیا کے دباؤ کے باجود جرات کے ساتھ فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے محافظ ہیں۔ اس حکومت کے ہوتے ہوئے پاکستان کو کوئی میلی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔ ہمیں کوئی بزدلی اور غفلت کا طعنہ نہیں دے سکتا۔ غزہ کی وجہ سے ہمارے دل چھلنی ہیں۔ بورڈ آف پیس میں پاکستان نہ جاتا تو یہ کہتے پاکستان تنہا رہ گیا۔ ہم برادر اسلامی ملکوں کے ساتھ غزہ کے امن کے لیے اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات مسلمان ملک نہیں ہیں؟۔ کیا یہ تمام ممالک پاکستان کے دوست نہیں۔ بعدازاں دانش سکولز اتھارٹی ایکٹ 2025 پارلیمنٹ سے منظور کر لیا گیا۔ علاوہ ازیں طلال چودھری نے ڈومیسٹک وائلنس بل پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرد بہت مظلوم لیکن بولتے نہیں۔ جس پر ایوان میں قہقہے بکھر گئے۔ علی ظفر نے کہا کہ اس حکومت کی پالیسی سمجھ سے باہر ہے۔ بیوی بچوں کے سماجی تحفظ سے متعلق قانون پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کر لیا گیا۔ بل کے مطابق بیوی کو گھورنا‘ گالی دینا‘ طلاق یا دوسری شادی کی دھمکی اور جذباتی طور پر پریشان کرنا جرم ہو گا۔ بیوی کو مرضی کے بغیر گھر میں دیگر افراد کے ساتھ رکھنا بھی قابل سزا ہو گا۔ 6 ماہ سے تین سال تک سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ڈومیسٹک وائیلنس بل کا اطلاق بچوں‘ گھر کے بزرگ افراد‘ لے پالک‘ ٹرانس جینڈر اور ایک ساتھ رہنے والوں پر بھی ہو گا۔ عدالت میں درخواست آنے کے سات روز کے اندر سماعت ہو گی اور فیصلہ 90 دن میں ہو گا۔ دریں اثناء ایوان بالا میں خصوصی کمیٹی کی تحریک مسترد ہونے پر پیپلز پارٹی کے سینیٹر شدید برہم ہوگئے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے حکومت کو سیاحت سمیت ہر شعبے کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیدیا۔ سینیٹر رانا ثناء اللہ خاں نے کہا کہ انتخابات جیتنے کیلئے خصوصی کمیٹی کے قیام کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر طلحہ محمود حکومت کی جانب سے چترال میں سیاحت کے فروغ کیلئے خصوصی کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے تحریک کی مخالفت پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے چترال میں سیاحت کے فروغ کے لئے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے حوالے سے تحریک پیش کی اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس ایوان میں زیر بحث معاملے کو کمیٹیوں کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔ صرف چترال کیوں تو پھر تو پورے پاکستان کیلئے کمیٹی بنا دیں۔ اس موقع پر سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ اس حوالے سے دو کمیٹیاںہیں ان کے پاس معاملہ جا سکتا ہے۔ اس موقع پر چیئرمین سینٹ نے معاملہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ ایوان بالا کو وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا ہے وفاقی اردو یونیورسٹی کی معاشی مشکلات دور کرنے کیلئے 1ارب 50کروڑ روپے کا پیکیج وزیر اعظم پاکستان کو بھجوایا گیا ہے۔ یہ یونیورسٹی صرف اردو کے فروغ کیلئے نہیں بلکہ ریگولر یونیورسٹی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کو مالی معاملات میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ اس سے پہلے وزیر اعظم نے دیگر یونیورسٹیوں کیلئے بھی پیکیج دیا ہے۔ ہم نے 1ارب 50کروڑ روپے کے پیکیج کی درخواست کی ہے اور امید ہے کہ یہ معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔ سینیٹر سرمد علی نے کہاکہ وفاقی اردو یونیورسٹی گذشتہ کئی عرصے سے معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ یونیورسٹی کے ملازمین کو تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں جبکہ 6ماہ سے پنشن کی ادائیگیاں نہیں کی گئی ہیں۔ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کیلئے حکومت بھرپور اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر کی جانب سے ملک کی معاشی مشکلات کے حوالے سے تحریک کا جواب دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرتحریک پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ عوام سوال پوچھ رہے ہیں کہ پاکستان میں انصاف کدھر ہے۔ دوسرا سوال کہ ہمارا اور پاکستان کا مستقبل کیا ہے اور تیسرا سوال یہ کہ عمران خان کب اپنا وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔ حکومت قرض لیکر گزارہ کر رہی ہے۔ اس وقت 80کھرب کا قرضہ ہے اور 13فیصد بڑھ گیا ہے۔ جو لوگ ٹیکس دے رہے ہیں انہیں سے مزید ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ ہر وزیر کے آگے پیچھے 10کاریں ہوتی ہیں۔ ملکی برآمدات کے حوالے سے حکومت بتائے کہ کیا کر رہی ہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں کیوں بھاگ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین سالوں سے معیشت کیوں نیچے جارہی ہے۔ حکومت اس مشکل وقت میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہاکہ پی ٹی آئی دور میں ملک کو ڈیفالٹ کی جانب دھکیلا گیا اور ان کی حکومت آر ٹی ایس کے ذریعے قائم کی گئی۔ پہلے یہ کہتے تھے کہ آئی ایم ایف نہیں جائیں گے اور اس کے بعد ایک آئی ایم ایف چلے گئے اور اس کے بعد ملک کو جان بوجھ کر ڈیفالٹ کی جانب دھکیلا گیا۔ بعدازاں سینٹ اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سینیٹر کامران مرتضی دانش سکولز اتھارٹی مشترکہ اجلاس میں گھریلو تشدد سے معاشی مشکلات انہوں نے کہا خصوصی کمیٹی کے حوالے سے کی جانب سے کے سینیٹر کرتے ہوئے صدر مملکت ایوان میں کہا کہ اس نے کہا کہ نے کہاکہ گل پلازہ کہا کہ ا کیا گیا کے ساتھ میں پی رہی ہے کے لیے کی گئی پیش کی
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔