چین کے طاقتور فوجی جنرل کیخلاف بدعنوانی کی تحقیقات شروع
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ (آن لائن) چین نے اپنی فوج کے ایک اعلیٰ ترین عہدیدار کے خلاف بدعنوانی کے الزامات پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔چینی وزارتِ دفاع کے مطابق سینٹرل ملٹری کمیشن کے سینئر نائب چیئرمین جنرل ژانگ یو شیا اور ایک اور اعلیٰ فوجی افسر لیو ژین لی پر سنگین نظم و ضبط کی خلاف ورزی کا شبہ ہے، جو عام طور پر بدعنوانی کے الزامات کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔ ژانگ یو شیا چین کی فوج کے اعلیٰ ترین جنرل اور طاقتور پولیٹ بیورو کے رکن بھی ہیں، جبکہ لیو ژین لی فوجی منصوبہ بندی کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ دونوں عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین میں صدر شی جن پنگ کی قیادت میں بدعنوانی کے خلاف وسیع مہم جاری ہے۔چینی حکام کے مطابق دونوں افسران قانون اور پارٹی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزیوں کے شبہ میں زیرِ تفتیش ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں دونوں عہدیدار ایک اہم اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف تحقیقات کی افواہیں گردش کر رہی تھیں۔صدر شی جن پنگ نے بدعنوانی کو کمیونسٹ پارٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف مہم بعض اوقات سیاسی مخالفین کو ہٹانے کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہے۔چین میں گزشتہ برسوں کے دوران کئی اعلیٰ فوجی عہدیدار بدعنوانی کے الزامات پر برطرف یا پارٹی سے نکالے جا چکے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کے اندر احتساب کا عمل مزید سخت ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بدعنوانی کے کے خلاف
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔