لاہور: کمسن بچی پر شیر کا حملہ، 6 ملزمان جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
لاہور:
کمسن بچی پر شیر کے حملے سے متعلق کیس میں عدالت نے 6 ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔
ماڈل ٹاؤن کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ حسن سرفراز چیمہ نے کیس پر سماعت کی، پولیس کی جانب سے 6 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
تفتیشی افسر نے عدالت میں بتایا کہ ملزمان سے تفتیش مکمل ہو چکی ہے، ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا جائے۔
عدالت نے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجتے ہوئے ریمانڈ مکمل ہونے پر دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ چار روز قبل 22 جنوری کو لاہور کے علاقے اقبال ٹاؤن بھیکھے وال کچی آبادی میں پالتو شیرنی کے حملے سے آٹھ سالہ بچی شدید زخمی ہوگئی تھی۔
پولیس کے مطابق شیرنی کے حملے کے نتیجے میں بچی کے سر، کان اور ٹانگ پر شدید زخم آئے تھے جسے فوری طور پر شیخ زید اسپتال لاہور منتقل کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزمان بلاول اور شجاعت پالتو شیرنی کو رکشے سے اتار رہے تھے کہ اسی دوران شیرنی نے اچانک کمسن بچی پر حملہ کردیا۔ واقعے کے بعد ملزمان شیرنی کو لے کر موقع سے فرار ہو گئے تھے۔
بعد ازاں پولیس نے خفیہ اطلاع پر شیر نواں کوٹ کے علاقے میں ایک فیکٹری پر کارروائی کرتے ہوئے 11 غیر قانونی شیر تحویل میں لیکر ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ ان شیروں میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق فیکٹری کے گراؤنڈ فلور پر ایمبرائیڈری کا کام جاری تھا اور فرسٹ فلور پر شیر رکھے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جوڈیشل ریمانڈ ملزمان کو پر جیل
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔