پنجاب میں محکمہ وائلڈ لائف حکام کا کریک ڈاؤن، غیرقانونی طور پر رکھے گئے 57 شیر برآمد
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
پنجاب کے محکمہ وائلڈ لائف نے ایک دن میں غیر قانونی طور پر رکھے گئے 57 شیر برآمد کرکے 8 افراد کو گرفتار کرلیا۔
مزید پڑھیں: بنا لائسنس کلاشنکوف، شیر کا بچہ رکھنے پر ٹک ٹاکر کی گرفتاری و ضمانت پر رہائی
محکمہ نے مختلف شہروں میں آپریشنز کرتے ہوئے غیر قانونی جانوروں کی خرید و فروخت اور نگہداشت پر کارروائیاں کیں، جس کے نتیجے میں ایک دن میں متعدد شیر اور دیگر جانور برآمد ہوئے۔
ترجمان محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق یہ کارروائیاں 24 جنوری کو پنجاب بھر میں غیر قانونی طور پر شیر رکھنے والے افراد کے خلاف کی گئیں۔
لاہور کے بیدیاں روڈ پر واقع فارم ہاؤس سے 20 شیر، جہلم کی ہاؤسنگ سوسائٹی سے 23 شیر، اور ملتان کینٹ کے فارم ہاؤس سے 9 شیر اور ایک بندر برآمد ہوئے۔ اس دوران لاہور سے 4، ملتان اور جہلم سے ایک ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
گوجرانوالہ کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی سے 3 شیر ضبط کیے گئے جبکہ سیالکوٹ کے گاؤں لوتھر میں ایک گھر سے 2 شیر تحویل میں لیے گئے، اور دونوں مقامات سے ایک ایک ملزم کو گرفتار کیا گیا۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں پالتو شیر اور دیگر جنگلی بلیوں کو رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کارروائی کی ہدایات جاری کی تھیں۔
یہ فیصلہ ڈھولا بریڈنگ فارم پرپیش آنے والے حادثے کے پس منظر میں کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں 8 سالہ بچے واجد کا بازو ضائع ہوگیا تھا۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں پالتو شیر رکھنے کی قانونی اجازت ختم، وزیراعلیٰ مریم نواز کا بڑا فیصلہ
وزیراعلیٰ نے واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی ہدایت جاری کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پنجاب شیر برآمد محکمہ وائلڈ لائف وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: محکمہ وائلڈ لائف وی نیوز محکمہ وائلڈ لائف
پڑھیں:
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق
فائل فوٹو۔ولیکا اسپتال کراچی میں ایچ آئی وی کا ایک اور نیا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ اسپتال حکام کے مطابق 18 ماہ کے بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 95 ہوگئی ہے۔
بچے کے والد کے مطابق 18 ماہ کا عبد الصمد دسمبر 2025 میں ولیکا اسپتال میں زیر علاج تھا، مسلسل طبیعت خراب رہنے پر بچے کا ایچ آئی وی کا ٹیسٹ کروایا۔
والد کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کروانے پر بچے میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ میرے 5 بچے ہیں، باقی بچوں کے بھی ٹیسٹ کروائیں گے۔
اسپتال حکام کے مطابق ایچ آئی وی سے اب تک 9 بچے جاں بحق ہوچکے ہیں۔