بیوروکریٹس کو بھی دوہری شہریت رکھنے سے روکا جائے، نور عالم خان
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے پیر کو مطالبہ کیا کہ بیوروکریٹس کو دوہری شہریت رکھنے سے بھی روکا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: رکن اسمبلی نور عالم خان کا شناختی کارڈ منسوخ، بینک اکاؤنٹس بھی منجمد، وجہ کیا ہے؟
فی الحال آئین کے آرٹیکل 63 (1)(c) کے مطابق جو شخص پاکستانی شہری نہ رہے یا کسی غیر ملک کی شہریت حاصل کرے وہ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کا رکن منتخب ہونے یا رہنے کے اہل نہیں ہوگا۔
تاہم بیوروکریٹس دوہری شہریت کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے سول سرونٹس ایکٹ میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے تاکہ بیوروکریٹس کے لیے دوہری شہریت پر پابندی عائد کی جا سکے۔
یہ معاملہ پیر کو قومی اسمبلی کے قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکریٹریٹ کے اجلاس میں زیرِ بحث آیا جہاں خان کی جانب سے پیش کیے گئے ’سول سرونٹس (ترمیمی) بل 2024‘ پر غور کیا گیا۔
اس بل میں کہا گیا ہے کہ اس نجی بل کا مقصد سول سرونٹس ایکٹ، 1973 کی سیکشن 5 میں ترمیم کرنا ہے تاکہ بیوروکریٹس جو کسی غیر ملک کی شہریت رکھتے ہیں ان کی تقرری کی اہلیت ختم کی جا سکے۔
مزید پڑھیے: انتخابات سے قبل سیاسی صف بندیاں، نور عالم خان جے یو آئی میں شامل
نور عالم خان نے اجلاس میں کہا کہ اگر بیوروکریٹس پر پابندی نہ لگائی گئی تو پھر پارلیمنٹ اراکین کو بھی دوہری شہریت رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
کمیٹی کے چیئرمین ابرار احمد نے کہا کہ پیدائشی طور پر دوہری شہریت رکھنے والے بیوروکریٹس کی تعداد معلوم کی جائے اور بیوروکریسی اور عدلیہ میں بھی ایسے افراد نہیں ہونے چاہییں۔
ن لیگ کی رکن قومی اسمبلی طاہرہ اورنگزیب نے کہا کہ ان کی بیٹی، پنجاب کی سینیئر وزیر مریم اورنگزیب کو انتخاب لڑنے کے لیے آسٹریلین شہریت چھوڑنی پڑی تھی۔
آخرکار 7 میں سے 6 کمیٹی اراکین نے بل کی حمایت کی اور بیوروکریٹس کی دوہری شہریت کے خلاف ووٹ دیا۔ تاہم چیئرمین نے دوبارہ ووٹنگ 16 فروری کے اجلاس میں کرنے کی تجویز دی۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے راجہ ریاض، نور عالم سمیت مزید 13 رہنماؤں کو پارٹی سے نکال دیا
اجلاس کا اختتام چیئرمین کی سفارش کے ساتھ ہوا جس کے مطابق معاملے پر وزیرِاعظم کو رپورٹ بھیجی جائے گی اور ان کے نقطہ نظر کے پیش نظر دوبارہ ووٹنگ کی جا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیوروکریٹس کی دوہری شہریت دوہری شہریت نور عالم خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دوہری شہریت نور عالم خان نور عالم خان کے لیے
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔