بلوچستان میں شدید برفباری کے باوجود پاک فوج ریلوے ٹریکس کی نگرانی میں مصروف
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
بلوچستان میں شدید برفباری اور مشکل حالات کے باوجود پاک فوج ریلوے ٹریکس کی نگرانی پر مامور ہیں۔
پاک فوج کے جوان شدید موسمی آزمائشوں اور دہشت گردی کے خطرات ، دونوں محاذوں پر بیک وقت عزم و حوصلے کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں۔
جعفر ایکسپریس اور بولان ایکسپریس کے مسافروں کی حفاظت کے لیے پاک فوج کے جوان برفباری میں بھی مسلسل اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔
مزید پڑھیںسردی کی حالیہ لہر نے بلوچستان کے مناظر کو بھی خوبصورت سفید چادر سے سجا دیا
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں آج سے 27 جنوری تک شدید بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی
پاک فوج کے جوان اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر ریلوے لائنوں اور مسافر ٹرینوں کی حفاظت کر رہے ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پاک فوج کے جوان ہر دم تیار ہیں۔
سخت موسم اور کٹھن حالات میں بھی ریلوے لائنوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں، شدید برفباری میں بھی مسافر ٹرینوں اور ریلوے ٹریکس کی حفاظت کرنے والے پاک فوج کے جوان قوم کا حقیقی فخر ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاک فوج کے جوان
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز