قائمہ کمیٹی اجلاس، خواجہ اظہار الحسن اور شہلا رضا میں تلخ جملوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے خواجہ اظہار الحسن اور پیپلز پارٹی کی شہلا رضا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
اجلاس میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات، اسکروٹنی کے معاملات زیر بحث آئے، خواجہ اظہار الحسن نے الزام لگایا کہ خاتون رکن اسمبلی اُس نجی کمپنی کی نمائندگی کر رہی ہیں، جس کے اسٹیک ہولڈر وہ لوگ ہیں، جن پر ہاکی فیڈریشن نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ اجلاس میں طے ہوا تھا کہ کچھ معاملات پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ہیں، افسانہ بنایا گیا کہ صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن جعلی ہے۔
ایم کیو ایم رہنما نے یہ بھی کہا کہ بار بار ایک بات نہ دہرائیں، اگر وزیراعظم نے اس کی تعیناتی کی ہے تو قانونی ہے، ضد اور ہٹ دھرمی کی بنیاد پر ایک نجی کمپنی کی وکالت کی جارہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہاکی ایسوسی ایشن نجی کمپنی ایکٹ کے تحت قائم ہوئی، یہ الگ پاکستان ہاکی فیڈریشن بنالیں، یہ زیادتی ہے، یہاں کسی سیاسی جماعت کا اجلاس نہیں ہو رہا ہے۔
شہلا رضا نے کہا کہ طارق بگٹی کو انتخابات کرانے کا اختیار تھا، لیکن انہوں نے خود صدر بننے کو ترجیح دی اور من پسند کلبز رجسٹر کروادیے۔
انہوں نے کہا کہ ہاکی فیڈریشن انتخابات جلد از جلد کرائے جائیں، اسپورٹس بورڈ نے ماضی میں ہاکی فیڈریشن کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
پی پی رہنمانے مزید کہا کہ بِلے کو دودھ کی نگرانی پر رکھا جارہا ہے، منتخب باڈی کے خلاف ایک باڈی بنائی گئی، ناک کے نیچے سب ہو رہا ہے، طارق بگٹی لاڈلے بنے ہوئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ انتخابات کو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بھی غیرقانونی قرار دیا، مالی بے ضابطگیاں بھی ہورہی ہیں، بدانتظامی بھی ہے؟
اس پر خواجہ اظہار نے کہا کہ میٹنگ صرف ایک شخص کے لیے نہیں ہو رہی، بات بار بار دہرائی جائے تو وہ لطیفہ لگتی ہے، بولنے کا موقع دیں۔
شہلا رضا نے کہا کہ لطیفے کو سب کچھ لطیفہ ہی لگتا ہے، ہم قانون کے مطابق چلیں گے، چاہے جتنا مرضی کھرچنا اور کریدنا پڑے، ہمیں کوئی نہ بتائے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں، ہمیں پتہ ہے کیا قانونی ہے اور کیا غیرقانونی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی بات کو کوئی رد نہیں کرسکتا، اٹارنی جنرل نے قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہاکی فیڈریشن کے انتخابات کو نل اینڈ وائیڈ قرار دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہاکی فیڈریشن خواجہ اظہار نے کہا کہ شہلا رضا انہوں نے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔