طالبان نے 36 افراد کو سرعام کوڑے مارے، قید کی سزائیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خوست(مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان کے صوبے خوست میں طالبان حکومت کی جانب سے ایک ہی روز کم از کم 36 افراد کو سر عام کوڑے مارے گئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مختلف جرائم میں گرفتار ان 36 ملزمان کو طالبان کی سپریم کورٹ نے نہ صرف سرعام کوڑے مارنے بلکہ قید کی سزائیں بھی سنائی تھیں۔جس پر عمل درآمد کرتے ہوئے پیر کے دن سرعام سزا پانے والے 36 ملزمان کو جرم کے اعتبار سے 10 سے 39 کوڑے مارے گئے جب کہ انہیں ایک سے 2 سال تک جیل میں بھی رکھا جائے گا۔طالبان حکام نے بتایا کہ جن ملزمان کو سرعام کوڑے مارے گئے اور قید کی سزا سنائی گئیں ان پر منشیات کے استعمال، غیر اخلاقی تعلقات، چوری اور دیگر جرائم کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔طالبان کے اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 17 صوبوں میں کم از کم 140 افراد کو سرعام کوڑے مارے گئے جن میں 8 خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ سزائیں زیادہ تر کابل، فاریاب، بلخ، ننگرہار، ہرات، پکتیا، پکتیکا، بدخشاں اور دیگر کئی علاقوں میں دی گئی ہیں۔بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ نے بارہا ان سزائوں پر طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے غیر انسانی قرار دیا ہے۔طالبان حکومت نے ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ یہ سزائیں جرم کے تدارک کے لیے لازمی اور اسلامی شریعت سمیت افغان روایات سے ہم آہنگ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کوڑے مارے گئے سرعام کوڑے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔