مسلسل اور شدید برف باری کے نتیجے میں زمینی رابطے منقطع ہونے پر سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر ہنگامی ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ اسلام ٹائمز۔ ضلع کرم میں شدید بارشوں اور غیر معمولی برف باری کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر امدادی کارروائیوں نے صورتحال کو قابو میں لے لیا۔ مسلسل اور شدید برف باری کے نتیجے میں زمینی رابطے منقطع ہونے پر سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر ہنگامی ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا۔ مقامی آبادی کی مدد اور اہم شاہراہوں کی بحالی کے لیے بھاری مشینری اور تربیت یافتہ افرادی قوت کو بھرپور انداز میں بروئے کار لایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ سڑکوں سے برف ہٹا کر تمام اہم زمینی راستے مکمل طور پر بحال کر دیے، جس کے بعد علاقے میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل ممکن ہو سکی۔ زمینی رابطوں کی بحالی سے مقامی افراد کو منڈیوں اور مراکزِ صحت تک دوبارہ رسائی حاصل ہو گئی۔

امدادی کارروائیوں کے دوران شاہراہوں پر پھنسے ہوئے مسافروں اور گاڑیوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات تک منتقل کیا گیا۔ خراب موسم اور دشوار گزار حالات کے باوجود سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوان ذاتی طور پر آپریشنز کی نگرانی کرتے رہے۔ بروقت اور پیشہ ورانہ اقدامات کے باعث عوام کو شدید مشکلات سے نجات ملی، جس پر مقامی شہریوں نے سیکیورٹی فورسز کی خدمات کو بھرپور سراہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار