جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا کشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
عاصم افتخار نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے عالمی قوانین کو مجروح کیا، جب قانون طاقت یا مصلحت کے آگے جھکے گا تو عدم استحکام گہرا ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں امن انصاف اور کثیر الجہتی نظام سے متعلق مباحثے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی امن و انصاف اور اجتماعی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے، آج بین الاقوامی قانون کے احترام کو کڑی آزمائش کا سامنا ہے۔ عاصم افتخار نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے عالمی قوانین کو مجروح کیا، جب قانون طاقت یا مصلحت کے آگے جھکے گا تو عدم استحکام گہرا ہوگا، تنازعات مزید جڑ پکڑ لیتے ہیں اور پر امن بقائے باہمی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سلامتی کو کمزور کرتی ہیں، پاکستان نے خود بھی ایسی خلاف ورزیوں کا سامنا کیا ہے، بھارت نے گزشتہ سال پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی کرکے جارحیت کا ارتکاب کیا۔ مستقل مندوب نے خطاب کرتے کہا کہ پاکستان نے حق دفاع کو ذمہ دارانہ محتاط اور متناسب انداز میں استعمال کیا، پاکستانی ردعمل نے واضح کردیا جبر کسی طور پر قبول نہیں، ریاستوں کے مابین واحد معیار بین الاقوامی قانون کا احترام ہے۔
عاصم افتخار نے کہا کہ جبر یا استثنیٰ سے جنم لینے والا جو کوئی بھی نیا معمول ہو وہ قابل قبول نہیں، کشمیریوں کو حق خودارادیت سے محروم رکھنا سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بھارت کشمیریوں پر مظالم کرکے پائیدار امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے، بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، یکطرفہ بھارتی اقدام خطے میں امن و سلامتی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ مستقبل مندوب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پانی اور دیگر قدرتی و سائل کو ہتھیار بنانے کے تصور کو مسترد کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عاصم افتخار نے نے کہا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔