نئے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مرحلے میں داخل: اسٹیٹ بینک
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور وفاقی کابینہ کی منظوری ملتے ہی دو سے تین مختلف مالیت کے نوٹس کی چھپائی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق نئے نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں نہیں آئیں گے بلکہ موجودہ نوٹس کے مرحلہ وار متبادل کے بعد انہیں گردش میں لایا جائے گا، جبکہ سب سے پہلے کون سی مالیت کے نوٹس متعارف ہوں گے اس کی تفصیلات بعد میں واضح کی جائیں گی۔
چین نے گولیاں برسانے والا ڈرون تیار کر لیا
اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے پیر کو مانیٹری پالیسی کے اعلان کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ نئے کرنسی نوٹس کی تیاری کا عمل آخری مراحل میں ہے اور کابینہ کی منظوری ملتے ہی چھپائی شروع کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے ڈیزائن کے بینک نوٹس کی چھپائی کا عمل کافی آگے بڑھ چکا ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد جلد ہی دو سے تین مختلف مالیت کے نوٹس بیک وقت چھاپے جائیں گے۔
گورنر نے واضح کیا کہ نئے نوٹس فوری طور پر مارکیٹ میں نہیں آئیں گے بلکہ انہیں مرحلہ وار گردش میں لایا جائے گا۔ نئے نوٹس اس وقت متعارف ہوں گے جب مرکزی بینک موجودہ کرنسی نوٹس کو مرحلہ وار تبدیل کرنے کے لیے مناسب اسٹاک حاصل کر لے گا۔
وزیرداخلہ محسن نقوی اوورسیز پاکستانیوں کی جائیداد کے حقوق کے مکمل تحفظ کیلئے پرعزم
تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ سب سے پہلے کون سی مالیت کے نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ اس وقت ملک میں 10، 20، 50، 75، 100، 500، 1000 اور 5000 روپے کے نوٹس زیر گردش ہیں۔
جمیل احمد نے بتایا کہ نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس حکومت کو منظوری کے لیے بھیجے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ قبل ازیں وزیراعظم آفس نے بتایا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے کرنسی نوٹس کے نئے ڈیزائن سے متعلق تجاویز کا جائزہ لیا اور اس معاملے کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
فرانس : کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک نئے ڈیزائن کرنسی نوٹس نوٹس کی کہ نئے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :