سٹی42:لاہور میں بسنت کے موقع پر 6 فروری کو مقامی تعطیل کے اعلان کے بعد شہر میں فروری کے آغاز میں چار دن کی چھٹیوں کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت جمعرات، جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو تعطیل رہنے کا امکان ہے، تاکہ شہری بسنت کی تقریبات میں محفوظ اور پرامن انداز میں حصہ لے سکیں۔

 ذرائع کے مطابق 5 فروری کو چھٹی رکھنے کی تجویز دی گئی تھی، جس کے پیشِ نظر پنجاب حکومت نے 6 فروری کو تعطیل کا اعلان کیا۔ پہلے سے طے شدہ جمعرات، ہفتہ اور اتوار کی چھٹیوں کے ساتھ جمعہ کو بھی چھٹی دینے کے بعد لاہور میں بسنت کے دوران چار دن کی چھٹیاں بن گئی ہیں، جس سے شہری ایک طویل ویک اینڈ انجوائے کر سکیں گے۔

انڈر 19 ورلڈ کپ سپر سکس مرحلہ پاکستان کا آج نیوزی لینڈ سے ٹاکرا

ڈی سی لاہور نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ 18 سال سے کم عمر بچے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بسنت منا سکتے ہیں تاکہ روایتی جشن میں نظم و ضبط اور تحفظ برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ شہری امن و امان کے ساتھ بسنت کی تقریبات میں حصہ لے سکیں۔

پولیس نے لاہور کو ریڈ، یلو اور گرین زون میں تقسیم کیا ہے، جس میں حساس اور گنجان آباد علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا گیا ہے جہاں سخت پابندیاں نافذ ہوں گی۔ نسبتاً کم خطرناک علاقوں کو یلو اور محفوظ علاقوں کو گرین زون میں شامل کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بسنت کے دوران نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، جن میں ڈرون کیمروں، سوشل میڈیا مانیٹرنگ اور خصوصی کنٹرول رومز شامل ہیں۔ چھتوں پر شراب نوشی، ہوائی فائرنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
 
 

معروف شاعر اعتبار ساجد 77سال کی عمر میں انتقال کر گئے

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے