بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق صدارتی آرڈیننس اور التواء کے خلاف درخواستوں پر سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کردی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اعظم خان کی عدم دستیابی کے باعث سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی ہے، جسٹس اعظم خان کی عدم دستیابی کے باعث انکی عدالت کی کازلسٹ منسوخ کی گئی۔
جماعت اسلامی اور مرکزی مسلم لیگ نے بلدیاتی الیکشن سے متعلق درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن اور فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر رکھا ہے۔
عدالت نے مرکزی مسلم لیگ کے کیس کو بھی جماعت اسلامی کے کیس کے ساتھ یکجا کردیا تھا۔
کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ رجسٹرار آفس مقرر کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں