بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں پر سماعت بغیر کارروائی ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق صدارتی آرڈیننس اور التواء کے خلاف درخواستوں پر سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کردی گئی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اعظم خان کی عدم دستیابی کے باعث سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی ہے، جسٹس اعظم خان کی عدم دستیابی کے باعث انکی عدالت کی کازلسٹ منسوخ کی گئی۔
جماعت اسلامی اور مرکزی مسلم لیگ نے بلدیاتی الیکشن سے متعلق درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن اور فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر رکھا ہے۔
عدالت نے مرکزی مسلم لیگ کے کیس کو بھی جماعت اسلامی کے کیس کے ساتھ یکجا کردیا تھا۔
کیس کی آئندہ سماعت کی تاریخ رجسٹرار آفس مقرر کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔