اے ایس آئی قتل کیس میں ملزم کی درخواست ضمانت بعداز گرفتاری مسترد
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے وفاقی پولیس کے اے ایس آئی علی اکبر کے قتل کیس میں ملزم وقار کی درخواست ضمانت بعداز گرفتاری مسترد کر دی۔
انسداددہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے ملزمان کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کی۔ سرکار کی جانب سے وکیل راجا نوید حسین نے دلائل دیے۔
عدالت نے شریک ملزم محمد علی کی 50 ہزار روپے کے مچلکوں کی عوض ضمانت منظور کر لی۔
راجا نوید حسین نے دلائل میں کہا کہ ملزم وقار کی مدعی مقدمہ نے شناخت پریڈ کے دوران تصدیق کی، ملزم وقار سے دوران تفتیش مقتول کا سروس کارڈ بھی برآمد ہوا، ملزم کا اس سے قبل بھی کریمنل ریکارڈ موجود ہے۔
سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ درخواست ضمانت مسترد کی جائے۔
واضح رہے کہ تھانہ سبزی منڈی میں ملزمان کیخلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درخواست ضمانت
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز