Express News:
2026-06-02@22:08:17 GMT
بلدیاتی انتخابات سے متعلق صدارتی آرڈیننس اور التواء کے خلاف درخواست پر سماعت
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی انتخابات سے متعلق صدارتی آرڈیننس اور التواء کے خلاف درخواستوں پر سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اعظم خان کی عدم دستیابی کے باعث سماعت بغیر کارروائی کے ملتوی کردی گئی۔ جسٹس اعظم خان کی عدم دستیابی کے باعث انکی عدالت کی کازلسٹ منسوخ کی گئی۔
جماعت اسلامی اور مرکزی مسلم لیگ نے بلدیاتی الیکشن سے متعلق درخواستیں دائر کر رکھی ہیں جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن اور فریقین کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر رکھا ہے۔
عدالت نے مرکزی مسلم لیگ کے کیس کو بھی جماعت اسلامی کے کیس کے ساتھ یکجا کردیا تھا۔
کیس کی آئیندہ سماعت کی تاریخ رجسٹرار آفس مقرر کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔