حسن ابدال کو ماڈل تحصیل بنانے کا عمل تیز، سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کی شاندار کارکردگی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
حسن ابدال کو ماڈل تحصیل بنانے کا عمل تیز، سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کی شاندار کارکردگی WhatsAppFacebookTwitter 0 27 January, 2026 سب نیوز
حسن ابدال(سب نیوز) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے وژن کے تحت کمشنر راولپنڈی، ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضا اور اسسٹنٹ کمشنر حسن ابدال کی واضح ہدایات پر تحصیلدار و سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ چوہدری شفقت محمود کی مؤثر اور شاندار کارکردگی کے باعث تحصیل فتح جنگ کی طرز پر حسن ابدال کو بھی ماڈل تحصیل بنانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
ماضی میں مین جی ٹی روڈ حسن ابدال پر قائم یہی بازار مچھلی منڈی یا مویشی منڈی کا منظر پیش کرتا تھا، تجاوزات کی بھرمار کے باعث پیدل چلنے والوں کے لیے گزرگاہ تک موجود نہ تھی، ہر دکاندار اپنی من مانی قیمتیں وصول کرتا تھا جبکہ بدبو دار، گلی سڑی اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت معمول بن چکی تھی جس سے عوام شدید اذیت اور پریشانی کا شکار تھے۔
موجودہ انتظامیہ کی سنجیدہ کوششوں کے نتیجے میں بازار کی مکمل از سر نو تنظیم کی گئی، تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا اور دکانوں کی باقاعدہ لائن اپ بنائی گئی۔ گزشتہ روز سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ و تحصیلدار چوہدری شفقت محمود نے اسی بازار کا تفصیلی دورہ کیا جہاں کسی ایک دکاندار کی جانب سے بھی سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی سامنے نہیں آئی، تمام دکانوں پر ریٹ لسٹ نمایاں طور پر آویزاں تھیں اور اشیاء مقررہ نرخوں پر فروخت کی جا رہی تھیں۔
اس موقع پر چوہدری شفقت محمود نے تاجر برادری کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو معیاری اور سستی اشیاء کی فراہمی حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے، تاجر برادری کے تعاون سے حسن ابدال کو ایک مثالی اور ماڈل تحصیل بنایا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسرکاری خرچ پر حج یا عمرہ کا سفر نہیں، تمام اخراجات ارکان خود برداشت کرتے ہیں: ترجمان قومی اسمبلی پاکستان اور گھانا میں سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق قانون طاقت کے آگے جھکا تو دنیا عدم استحکام کی لپیٹ میں آجائے گی، عاصم افتخار وزیراعلیٰ پنجاب نے 47 ارب روپے کے رمضان نگہبان پیکج کی منظوری دیدی اے ایس آئی قتل کیس میں ملزم کی درخواست ضمانت بعداز گرفتاری مسترد پنجاب میں بسنت سے قبل دفعہ 144 کے تحت سخت پابندیاں عائد ازبکستان اور پاکستان کے درمیان تعاون: نئے افق کی طرفCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سپیشل پرائس کنٹرول مجسٹریٹ حسن ابدال کو ماڈل تحصیل
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔