علیمہ خان کے خلاف کون سے مقدمات زیر سماعت ہیں، کیا ان کی گرفتاری کا امکان ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف ملک کے مختلف علاقوں میں متعدد مقدمات درج ہیں، جن میں 9 مئی، 12 اکتوبر ڈی چوک احتجاج، دھرنوں اور سرکاری احکامات کی مبینہ خلاف ورزی سے متعلق الزامات شامل ہیں۔ اب امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ علیمہ خان کو گرفتار کیا جاسکتا ہے، اس لیے ہو سکتا ہے کہ ان کے خلاف درج مقدمات کا جلد فیصلہ بھی سنایا جائے۔
علیمہ خان کے خلاف پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 10 مقدمات درج تھے، ان میں لاہور میں 7، اٹک میں 2 اور راولپنڈی میں 1 مقدمہ شامل ہے۔ بیشتر مقدمات کا تعلق سیاسی سرگرمیوں اور احتجاجی مظاہروں سے بتایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ علیمہ خان کے خلاف 9 مئی کیس، 26 نومبر 2024 کو ڈی چوک کی جانب مارچ کا کیس، 24 اکتوبر کو ڈی چوک پر احتجاج کیس، 18 دسمبر 2025 کو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج اور دھرنے کا کیس سمیت دیگر مقدمات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے 8 فروری کو احتجاج کی کال عمران خان کی طرف سے نہیں، علیمہ خان نے واضح کردیا
26 نومبر 2024 کو اسلام آباد اور اڈیالہ جیل کے اطراف ہونے والے احتجاج اور دھرنے کے معاملے پر علیمہ خان کے خلاف انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت بھی مقدمات درج کیے گئے۔
ان کیسز میں ان کے ساتھ پاکستان تحریکِ انصاف کے دیگر رہنماؤں کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ یہ مقدمات راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں درج ہوئے، جن کی سماعت انسدادِ دہشتگردی عدالتوں میں جاری ہیں۔
علیمہ خان نے مختلف عدالتوں سے عبوری ضمانتیں حاصل کیں، جبکہ بعض مقدمات میں عدالتوں نے تفتیشی عمل مکمل کرنے اور فریقین کو دلائل پیش کرنے کی ہدایات بھی جاری کیں۔ بعض کیسز میں گرفتاری کے خدشے کے پیشِ نظر حفاظتی ضمانت کی درخواستیں بھی دائر کی گئیں۔
ترجمان بانی پی ٹی آئی نیاز اللہ نیازی کا کہنا ہے کہ 24 اکتوبر 2025 کو عمران خان کی بہنیں ڈی چوک پر روڈ کنارے کھڑے احتجاج کر رہی تھیں تو ان کو گرفتار کر لیا گیا اور مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اسی طرح میں اور علیمہ خان لیاقت باغ میں ایک دعائیہ تقریب میں گئے تو وہاں بھی میرے خلاف اور علیمہ خان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا جس پر ہم نے ضمانتیں کرائیں۔
یہ بھی پڑھیے 8 فروری کو پی ٹی آئی کیا کرنے جا رہی ہے؟ علیمہ خان نے بتا دیا
سینیئر تجزیہ کار حسن ایوب کے مطابق علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمہ میں 6 گواہوں پر جرح ہونا باقی ہے، اس کے بعد ٹرائل مکمل ہو جائے گا اور امکان ہے کہ 3 4 سماعتوں کے بعد فیصلہ آ جائے گا اور ممکن ہے کہ ان کو سزا ہو جائے۔ علیمہ خان نے اپنے خلاف عائد فرد جرم کو بھی چیلنج کر رکھا تھا تاہم چونکہ مقدمہ قانونی تقاضوں کے تحت چلا ہے تو کوئی ایسا نکتہ نہیں ہے کہ ٹرائل رک سکے، 10 مرتبہ علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے لیکن گرفتار نہیں کیا گیا۔
حسن ایوب کے مطابق اس کیس میں علیمہ خان کو 8 فروری کے بعد اور رمضان المبارک سے قبل سزا ہونے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی علیمہ خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی علیمہ خان علیمہ خان کے خلاف علیمہ خان نے ان کے خلاف ڈی چوک
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔