لاکھوں لوگ آیت اللہ خامنہ ای پر جان فدا کرنیکے کے لیے تیار ہیں، آیت اللہ عیسیٰ قاسم
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
قم سے جاری کیے گئے بیان میں بحرینی رہنما نے کہا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایک ایسی شخصیت ہیں جو آج دنیا کے رہنماؤں میں چمک رہے ہیں۔ ایک ایسا رہنما جس کی حمایت پوری دنیا میں ایک وسیع امت کرتی ہے۔ وہ قوم جو اپنی سلامتی اور امت اسلامیہ اور معزز انسانی معاشرے کی سطح پر اس کی نعمتوں کے تسلسل کے لیے اپنی جانیں قربان کرتی ہے۔ اس قیادت کا حقیقی فائدہ ہر باوقار اور صالح انسان کے لیے مشترکہ فائدہ ہے اور ان کا قول، کردار اور جہاد دنیا کی سلامتی، امن، بھلائی، خوشحالی اور بھائی چارے کے لیے ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بحرین کے شیعہ رہنما آیت اللہ عیسی قاسم نے قم سے جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایک ایسی شخصیت ہیں جو علمی، روحانی اور سیاسی بلندیوں پر فائز ہیں، وہ رہنما جس کے لیے ایران کے لاکھوں مرد و زن اپنی جانیں قربان کرتے ہیں اور ان کے حکم کو ایک ایسا دینی حکم سمجھتے ہیں جس کی خلاف ورزی جائز نہیں اور وہ ان کی صحت کو اسلام اور قوم کی سلامتی سمجھتے ہیں۔ آیت اللہ عیسی قاسم نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے رہبر انقلاب کی توہین کے بعد ایک بیان جاری کیا جس کا متن کچھ یوں ہے:
یہ بات سب پر عیاں ہے کہ آج دنیا، اس کی قوموں اور ریاستوں کی اکثریت میں، بڑی اور چھوٹی، وہ لوگ جو امریکہ کی مخالفت کرتے ہیں اور جو اس کے دوست سمجھے جاتے ہیں، اپنی اور پوری دنیا کی قسمت کے بارے میں نہایت فکر مند ہے۔ ایک ایسے ہمہ گیر اور تباہ کن خطرے کے بارے میں جس میں مادّی طاقت کی زبردست باتوں کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا اور جس میں عقل، مذہب، اخلاقیات اور عظیم انسانی فطرت کی منطق کا مکمل فقدان ہے۔ اس وسیع تر عالمی خوف کا اصل ماخذ امریکی صدر کی بے لگام پالیسیاں اور دنیا پر استکباری تسلط کے حصول کے لیے ان کا ہمہ گیر تباہ کن انداز ہے۔ اس حقیقت کی روشنی میں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم لیڈر شپ پر کس قسم کی "اصلاحات" کو واجب سمجھتے ہیں؟ ان کامل صفات کے ساتھ ایک قیادت جن کی خاطر لاکھوں لوگوں نے مارچ کیے اور بڑے پیمانے پر اس مبارک جمہوریہ کی سڑکوں کو بھر دیا تاکہ تباہ کن اور نفرت انگیز تحریکوں کے خلاف ان کی حمایت کی جا سکے۔ وہ تحریکیں جن کی قیمت [دشمن] نے ادا کی، دشمن نے ان کو کھلایا پلایا، اور ان کی حمایت کا اعلان کیا اور ان کے ساتھ کھڑے ہوئے، اور اسلامی نظام کے خلاف براہ راست مداخلت کو سہارا دیا، تاکہ صحیح وقت پر اور بغیر کسی تاخیر کے، عوام، اسلامی حکومت، بنیادی ڈھانچے اور ہر وہ چیز جس پر عوام کی زندگی کا انحصار ہے، کو کچل کر اسلامی جمہوریہ کو تباہ کر دے اور اس کے واپس آنے کا کوئی موقع نہ چھوڑے۔
کیا کوئی ایک سمجھدار ایرانی بھی یہ مانتا ہے کہ 12 روزہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ مہم اور اس کے نتیجے میں براہ راست، زیادہ پرتشدد، وسیع، تباہ کن اور خونریز جنگ شروع کرنے کی کوشش، ٹرمپ کی مہربانی اور ایرانی عوام کے مفادات اور ان کی آزادی، امن اور وقار کے لیے اس کی عزت و ہمدردی کی وجہ سے تھی؟ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایک ایسی شخصیت ہیں جو آج دنیا کے رہنماؤں میں چمک رہے ہیں۔ ایک ایسا رہنما جس کی حمایت پوری دنیا میں ایک وسیع امت کرتی ہے۔ وہ قوم جو اپنی سلامتی اور امت اسلامیہ اور معزز انسانی معاشرے کی سطح پر اس کی نعمتوں کے تسلسل کے لیے اپنی جانیں قربان کرتی ہے۔ اس قیادت کا حقیقی فائدہ ہر باوقار اور صالح انسان کے لیے مشترکہ فائدہ ہے اور ان کا قول، کردار اور جہاد دنیا کی سلامتی، امن، بھلائی، خوشحالی اور بھائی چارے کے لیے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی حمایت خامنہ ای آیت اللہ تباہ کن کرتی ہے اور اس اور ان کے لیے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔