امریکی صارفین کا ٹِک ٹاک پر ٹرمپ مخالف مواد سینسر کرنیکا الزام
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
امریکا میں ٹک ٹاک صارفین کی جانب سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ پلیٹ فارم پر میسجز میں ’ایپسٹین‘ لفظ نہیں لکھ پا رہے ہیں۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقیدی مواد کو سینسر کر رہا ہے۔
سینسر شپ سے متعلق یہ معاملہ چینی پلیٹ فارم کی مالک کمپنی بائٹ ڈائنس سے زبردستی امریکی آپریشنز کے اکثریتی حصص ڈونلڈ ٹرمپ (جو آنجہانی مجرم جیفری ایپسٹین کے بہت قریب تھے) کے وفاداروں کو فروخت کرانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ٹک ٹاک صارفین کے کے مطابق ٹیک اوور کے بعد سے کہ منیاپولس میں امریکا کی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے چھاپے اور احتجاج کی ویڈیوز بھی سینسر کر دی گئی ہیں۔
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کی تحقیق کریں گے کہ آیا ٹک ٹاک کانٹنٹ سینسر کر کے ریاست کے قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا۔
پیر کی شب ایکس (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ یہ تفتیش کرنے کا وقت ہے۔ وہ ایک ریویو لانچ کرنے جا رہے ہیں جس میں یہ معلوم کیا جائے گا کہ آیا ٹک ٹاک ٹرمپ پر تنقیدی مواد کو سینسر کر کے ریاستی قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹک ٹاک
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔