کچے کے مزید 98 ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے، 8 انتہائی خطرناک ملزمان بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پنجاب کے علاقے راجن پور میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران مزید 98 ملزمان نے ہتھیار ڈال دیے۔
پنجاب کے کچے میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن جاری ۔۔۔
کچا رجوانی میں ڈی پی او عرفان سموں کی نگرانی میں سرجیکل سٹرائیکس ، جدید ترین ڈرونز حملوں میں بدنام زمانہ ڈاکو عرفان عباسی کے مارے جانے کی اطلاع pic.
— Imdad Ali Soomro (@imdad_soomro) January 27, 2026
پولیس حکام کے مطابق سرینڈر کرنے والوں میں 8 انتہائی خطرناک ڈاکو بھی شامل ہیں جن کے سر کی قیمت رکھی گئی تھی۔ اب تک مجموعی طور پر 309 ملزمان نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ڈاکو اغوا، قتل اور ڈکیتی جیسے سنگین جرائم میں مطلوب تھے۔
آپریشن کے دوران ڈاکوؤں کے 33 ٹھکانے اور زیر زمین بنکر بھی مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں، تاکہ علاقے میں امن و امان قائم کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آپریشن راجن پور کچے کے ڈاکو ہتھیار ڈال دیے وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: راجن پور کچے کے ڈاکو ہتھیار ڈال دیے وی نیوز ہتھیار ڈال دیے
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔