شوکت خانم ہسپتال کا عمران خان کی صحت پر تشویش کا اظہار، طبی ٹیم کی رسائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سینٹر کی انتظامیہ نے بانی تحریک انصاف عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک رپورٹس پر اپنا باضابطہ بیان جاری کر دیا ہے۔ لاہور سے جاری ہونے والے اس بیان میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ رات سے مختلف ذرائع سے ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران خان آنکھوں کی ایک سنگین بیماری، جسے طبی زبان میں 'سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن' کہا جاتا ہے، کا شکار ہو گئے ہیں۔
ہسپتال انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ مختلف وجوہات اور دیگر طبی پیچیدگیوں کے باعث یہ صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ہسپتال کے لیے ان خبروں کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق کرنا فی الحال ممکن نہیں ہے، تاہم عمران خان کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی ان اطلاعات نے ہسپتال کے عملے اور متعلقہ حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب، وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس پر گفتگو کریں گے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شوکت خانم ہسپتال کو عمران خان کا معائنہ کرنے والے موجودہ ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے، لیکن اس کے باوجود ہسپتال کی جانب سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ شوکت خانم کے ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کو فوری طور پر عمران خان تک رسائی دی جائے۔ ہسپتال انتظامیہ کا اصرار ہے کہ ان کے ڈاکٹروں کو عمران خان کی طبی نگہداشت کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی صحت کے حوالے سے تمام خدشات کو دور کیا جا سکے اور ان کی خیریت کے منتظر لاکھوں لوگوں کو حقیقت حال سے آگاہ کر کے مطمئن کیا جا سکے۔
بشریٰ بی بی کا نہ تو فیس بک اکاؤنٹ ہے اور نہ ہی ٹویٹر ،پھر بھی فیملی کو ملاقات کی اجازت نہیں،شیخ وقاص اکرم
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عمران خان کی شوکت خانم ان کی صحت
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔