خوف زدہ اسرائیلی وزیراعظم موبائل فون کے کیمرے پر ٹیپ کیوں چپکا کر رکھتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی ایک حالیہ وائرل تصویر سوشل میڈیا پر غیر معمولی بحث کا موضوع بن گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس تصویر کا تعلق نہ تو کسی جارحیت انگیز مہم جوئی سے ہے اور نہ یہ کوئی سفارتی بیان سے متعلق ہے۔
اس تصویر میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سفید قمیض کے اوپر سیاہ پفر جیکٹ پہنے ایک سیاہ گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے فون پر بات کرتے نظر آتے ہیں۔
تاہم سوشل میڈیا صارفین کی توجہ جس چیز نے کھینچی وہ یہ تھی کہ فون کے کیمرہ والے حصے پر ٹیپ یا اسٹیکر چسپاں دکھائی دیتا ہے۔
تصویر وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے یہ سوال اٹھانا شروع کر دیا کہ نیتن یاہو کون سا فون استعمال کرتے ہیں اور کیمرہ کیوں ڈھانپا گیا ہے؟
کچھ صارفین نے قیاس کیا کہ یہ آئی فون ہوسکتا ہے جبکہ بعض نے اسے سام سنگ کا فون قرار دیا۔ کچھ نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ وہ کسی چینی فون کا استعمال تو نہیں کر رہے۔
تاہم زیادہ تر افراد اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ اسرائیل جیسے ملک میں، جہاں نگرانی، ہیکنگ اور بیرونی ٹیکنالوجی کے اثرات پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔ وزیرِاعظم کے لیے چینی ڈیوائس استعمال کرنا بعید از قیاس ہے۔
اے آئی ‘گروک’ کی رائے
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) کے اے آئی Grok سے بھی ایک صارف نے سوال کیا کہ نیتن یاہو کون سا فون استعمال کرتے ہیں۔
گروک نے محتاط جواب دیتے ہوئے کہا کہ دستیاب معلومات کے مطابق ممکن ہے وہ آئی فون استعمال کرتے ہوں، تاہم اس بارے میں کوئی حتمی تصدیق موجود نہیں۔
گروک نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اسرائیل حساس حکومتی اور سیکیورٹی معاملات میں چینی ٹیکنالوجی کے استعمال پر سخت پابندیاں رکھتا ہے۔
کیمرہ ڈھانپنے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟
ماہرینِ سائبر سیکیورٹی کے مطابق موبائل فون کے کیمرے اور مائیکروفون کو ہیک کر کے نگرانی کرنا ممکن ہے یہاں تک کہ صارف کو اس کا علم بھی نہ ہو۔
اسی ممکنہ خدشے کے پیش نظر دنیا بھر میں سیاست دان، انٹیلی جنس افسران اور اعلیٰ سرکاری حکام اکثر اپنے لیپ ٹاپ اور فون کے کیمروں پر ٹیپ لگا دیتے ہیں۔
یہ ایک سادہ مگر علامتی حفاظتی اقدام سمجھا جاتا ہے خاص طور پر ان افراد کے لیے جو حساس معلومات سے وابستہ ہوں۔
Netanyahu using a phone with its camera taped over.
Highly likely done as a security measure to prevent spying or recording in sensitive areas. pic.twitter.com/N8M8Cc2uD1 — Clash Report (@clashreport) January 27, 2026
کیا تصویر اصلی ہے؟
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے یہ شبہ بھی ظاہر کیا کہ تصویر مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار یا تبدیل کی گئی ہو سکتی ہے، تاہم اس دعوے کی تائید میں کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا نیتن یاہو فون کے
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین