گوا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی پر غور
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
گوا حکومت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے جو آسٹریلیا کے طرز پر قانون سازی کے مترادف ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا نابالغ بچوں پر سوشل میڈیا پابندی لگانے والا پہلا ملک بن گیا
گوا کے وزیر برائے سیاحت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، روہان خاونٹے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ معاملہ زیر غور ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے والدین کی جانب سے بہت شکایات وصول کی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا اور کچھ دیگر پلیٹ فارمز بچوں کے لیے توجہ ہٹانے کا سبب بن رہے ہیں اور اس کے بہت سے سماجی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیے: فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا بل منظور
وزیر نے کہا کہ آسٹریلیا نے ایسے بچوں کے لیے 16 سال سے کم عمر کے افراد کی سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی کا قانون نافذ کیا ہے۔
روہان خاونٹے نے کہا کہ ہمارے آئی ٹی شعبے نے اس کے متعلق کاغذات نکال لیے ہیں اور ہم ان کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: کم عمر صارفین کی سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی، سینیٹ میں بل پیش
انہوں نے مزید کہا کہ ہم وزیراعلیٰ سے بھی بات کریں گے اور اگر ممکن ہوا تو 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر اسی طرح کی پابندی نافذ کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت گوا گوا سوشل میڈیا پر پابندی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت گوا سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا سوشل میڈیا پر پر پابندی کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔