ثروت گیلانی نے ناک کی سرجری کی اصل وجہ بتا دی، سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
باصلاحیت اداکارہ ثروت گیلانی کے حالیہ انٹرویو نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی ہے، جس میں انہوں نے اپنی ناک کی سرجری سے متعلق اہم انکشافات کیے۔ اداکارہ کے مطابق یہ سرجری خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ کالج کے زمانے میں پیش آنے والے ایک حادثے کے باعث کروانی پڑی، جب وہ باتھ روم میں بے ہوش ہو کر سنک سے ٹکرا گئیں اور ناک کی ہڈی شدید متاثر ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہوش آنے پر ناک سے شدید خون بہہ رہا تھا جس کے بعد ڈاکٹروں کے مشورے اور والدہ کے اصرار پر ہنگامی بنیادوں پر سرجری کروائی گئی۔ ثروت گیلانی کا کہنا ہے کہ اس سرجری کے بعد نہ صرف ان کا اعتماد بحال ہوا بلکہ بار بار بے ہوشی کے مسائل بھی ختم ہوگئے۔ اداکارہ اس سے قبل بھی اپنی ذہنی صحت اور ذاتی جدوجہد پر کھل کر بات کر چکی ہیں، جس پر مداحوں کی جانب سے انہیں بھرپور پذیرائی ملی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔