اداکارہ ہانیہ عامر پر کاسمیٹک سرجری کے الزامات، کزن نے سوشل میڈیا پر حقائق بیان کردیے
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہانیہ عامر سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک بار پھر کاسمیٹک سرجری اور بوٹوکس کے حوالے سے مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں، جن میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ اداکارہ نے اپنے ڈمپلز کو نمایاں کرنے کے لیے مبینہ طور پر ڈمپل پلاسٹی کروائی ہے۔ تاہم اب اس حوالے سے ہانیہ عامر کی کزن کی جانب سے وضاحتی بیان سامنے آ گیا ہے جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
ہانیہ عامر کی کزن نورین شاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے ان تمام دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی معلومات سراسر بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں۔ ان کے مطابق ہانیہ عامر کے ڈمپلز اور گورا رنگ مکمل طور پر قدرتی ہیں اور ان کا کسی بھی قسم کی سرجری یا کاسمیٹک پروسیجر سے کوئی تعلق نہیں۔
نورین شاد کا کہنا تھا کہ ہانیہ عامر بچپن ہی سے قدرتی طور پر خوبصورت رہی ہیں، جس کی تصدیق ان کی اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی تصاویر سے بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہانیہ نے 18 سال کی عمر میں فلم جانان کے ذریعے شوبز کی دنیا میں قدم رکھا، اس وقت وہ فاسٹ یونیورسٹی میں بی بی اے کی طالبہ تھیں۔ کم عمری کے باعث ان کے چہرے پر بیبی فیس ہونا ایک فطری بات تھی۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران عمر میں اضافے، جسمانی پختگی، باقاعدہ جم ورزش اور متوازن غذا کے باعث ہانیہ عامر کے خدوخال میں قدرتی نکھار آیا ہے۔ وزن کو متوازن رکھنے اور چہرے کی گولائی سے بچنے کے لیے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کے نتیجے میں ان کے فیچرز زیادہ نمایاں ہوئے ہیں، جسے غلط طور پر کاسمیٹک تبدیلی سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا ہانیہ عامر نے کاسمیٹک سرجری اور بوٹوکس کروا رکھا ہے؟ اداکارہ نے خود بتادیا
نورین شاد نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ ہانیہ عامر کبھی فیشن ڈیزائنر رہی ہیں۔ اسی طرح انہوں نے واضح کیا کہ اداکارہ کی پیدائش کراچی میں ہوئی تھی، نہ کہ راولپنڈی میں، اور ان کا تعلق کسی غریب پس منظر سے نہیں بلکہ ایک اپر مڈل کلاس خاندان سے ہے جہاں انہیں مناسب سہولیات اور آرام دہ پرورش حاصل رہی۔
کزن کے مطابق اس وقت ہانیہ عامر کی شادی سے متعلق کوئی فیصلہ زیرِ غور نہیں اور ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں مرد و خواتین کے درمیان دوستی کو بلا وجہ منفی رنگ دینا مناسب نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اتنی افواہوں کے بعد اب خود بھی شادی کا دل چاہتا ہے، ہانیہ عامر
مزید بتایا گیا کہ روٹس اسکول، کالج اور فاسٹ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی تصاویر صرف غلط معلومات کی تصحیح اور حقائق سامنے لانے کے لیے شیئر کی گئی ہیں۔ نورین شاد نے یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئیٹرز سے مطالبہ کیا کہ وہ خبر شائع کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق کریں اور محض ویوز کے حصول کے لیے گمراہ کن اور غیر مستند معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔
واضح رہے کہ ہانیہ عامر پاکستان کی مقبول ترین ٹیلی ویژن اور فلمی اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں پہچان رکھتی ہیں۔ ان کی مشہور فلموں میں جانان، نامعلوم افراد 2 اور پردے میں رہنے دو شامل ہیں، جبکہ ہٹ ڈراموں میں تتلی، دلربا، عشقیہ، میرے ہمسفر، سنگِ ماہ، مجھے پیار ہوا تھا اور کبھی میں کبھی تم شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی سے پہلے ہی طلاق؟ ہانیہ عامر کا نجومی کی پیشگوئی پر دلچسپ تبصرہ
ہانیہ عامر انسٹاگرام پر بھی غیر معمولی مقبولیت رکھتی ہیں، جہاں ان کے فالوورز کی تعداد 19.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ہانیہ عامر ہانیہ عامر بوٹوکس ہانیہ عامر سرجری ہانیہ عامر شادی ہانیہ عامر کزن
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر ہانیہ عامر سرجری ہانیہ عامر شادی ہانیہ عامر کزن
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔