ججز بھی نااہل ہیں اور عدالتیں بھی مردہ ہو گئی ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس محسن اختر کیانی نے وکلا کی ہڑتال پر برہمی کا اظہار کیا اور دوران سماعت ریمارکس دیے کہ ججز بھی نااہل ہیں اور عدالتیں بھی مردہ ہو گئی ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ بار کی ہڑتال سے متعلق اہم ریمارکس دیے اور جواب کنندہ کے وکیل کی عدم پیشی پر آرڈر لکھوا دیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا کہ آج وکلا ہڑتال ہے اور وکیل اس وجہ سے پیش نہیں ہوئے ہوں گے اور استفسار کیا کہ وکلا کی ہڑتال کس وجہ سے ہے، جس پر بیرسٹر خوش بخت نے آگاہ کیا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے بیرسٹر خوش بخت کے جواب پر کہا کہ وہ جن کو خود گرفتار کرایا ہے، خود جیل بھیجواتے ہیں، پھر ہڑتال کر دیتے ہیں، کتنی اچھی ہماری بار ہے، میڈل ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ججز بھی نااہل ہیں اور عدالتیں بھی مردہ ہو گئی ہیں، بار تو دونوں وکلا کو خود جیل چھوڑ کر آئی ہے اور بغیر قانون کے جج نے کمال کا فیصلہ دے دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے اسلام آباد
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔